کہ نظام شمس کے متعلق اور ستا رو ں اورزمین کے متعلق حا لا ت مجھے بتا دو اور جتنے وقت میں میںَ نے سوا ل کیا ہے اتنا ہی وقت دیا جا تا ہے کہ اتنے وقت کے اند را اند رجو اب دو ۔ ورنہ تم جھو ٹے ہو ۔ اب صا ف عیا ں ہے کہ جوا ب دنیے والا کیا کر ے ۔ وہ جب تک کئی جز کی کتا ب نہ لکھے تک جوا ب پو را نہ ہو نا ہو ا۔غر ض اس طر ح کی مشکلا ت ہیں جو ہم کو درپیش ہیں ۔یہ وجو ہ ہیں جو ہمیں ان جلسو ں میں جا نے سے روکتے ہیں ۔ تلا شِ حق کے آدا ب اگر سا ئل ایسا کر ے کہ لو صا حب میں سوا ل کیا ہے تم جتبک اس کا جو اب کا مل کر و مَیں خا مو ش ہو ں تو جو اب دینے والے کو بھی مزہ آوے ۔ اصل میں جو با تیں خدا کے لیے ہو ں اور جو دل خدا کی رضا کے واسطے ایسا کر تا ہے اور اس کا دل سچے تقوی سے پر ہے وہ تو کبھی ایسا کر تا نہیں ۔ مگر آج کل زبا ن چھر ی کی طر ح چلتی ہے اور صر ف ایک حجت با زی سے کا م لیا جا تا ہے خدا کے لیے ایسا ہو گا تو وہ با تیں اور وہ طرزہی اور ہو تی ہے جو دل سے نکلتاہے وہ دل ہی پر جا کر بیٹھتا ہے۔حق جُو کے سو ا ل کی بھی ہم کو خوشبو آجا تی ہے ۔حق جو ہو تو اس کی سختی میں بھی ایک لذت ہو تی ہے ۔اس کا حق ہو تا ہے کہ جو امر اس کی سمجھ میں نہیں آیا ۔اس کے متعلق اپنی تسلی کرائے اور جب تک اس کی تسلی نہ ہو اور پو رے دلا ئل نہ مل جا ویںتب تک بیشک وہ پو چھے ہمیں بر ا نہیں لگتا ۔بلکہ ایسا شخص تو قا بل عزت ہو تا ہے جو با تیں خدا کیلیے ہو تی ہیں وہ کیا ں اور نفسا نی ڈھکو نسلے کہا ں؟ اعتراض کر نے میں جلدی نہ کرو میں نے اپنی جما عت کو بھی با ر ہا سمجھایا کہ کسی پر اعتراض کر نے میں جلدی نہ کرو ہر پرانا مذہب اصل میں خدا ہی کی طر ف سے تھا مگر زما نہ دراز گذرنے کی وجہ سے اس میں غلطیا ں پڑگئی ہیں ۔ان کو آہستگی اور نر می سے دور کر نے کی کو شش کر و کسی کی طر ح اعتر اض کا تحفہ نہ دو ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج ایک کپڑا با ز ار سے لے کر سلا یا جا تا اور پہنا جا تا ہے چند روز کے بعد وہ پر انا ہو جا تا اور اس میں تغیر آکر کچھ اور کا اور ہی ہو جا تا ہے سچے مذہب کی علا ما ت اسی طر ح پر انے مذہب میں بھی صدا قت کی جڑ ضر ور ہو تی ہے۔ خدا راستی کے سا تھ ہو تا ہے اور سچا مذہب اپنے اندرزندہ نشا ن رکھتا ہے۔ کیو نکہ درحت اپنے پھلو ں سے شنا خت ہو تا ہے ۔گو رنمنٹ جو اس ورا ء الو را ء ہتی کا ایک نہا یت کمزور سا ظِلّ ہے خو د کسی جگہ حا کم مقر رفر ما یا ہو تا ہے۔ وہ کس دلیر ی سے کا م کر تا ہے اور ذرا بھی پو شید گی پسندنہیں کر تا ۔ مگر وہ ایک مضو عی ڈپٹی کمشنر یا تھا نہ دار وغیرہ جو جعلی طو ر کسی جگہ خود بخود حا کم بن کر لو گو ں کو دھو کہ دیتے ہیں ۔کیا وہ گو رنمنٹ کے سا منے ہو سکتے ہیں ؟ جب گو رنمنٹ کو یہ پتہ لگے گا اس کو ذلیل کر ے گی اور وہ ہتھکڑی لگ کر