مذہبی مبا حثا ت کے آداب
اصل با ت یہ ہے کہ ہم جا نتے ہیں کہ ہر قو م میں کچھ شر یف لو گ بھی ہو تے ہیں جن کا مقصد کسی بے جا حقا رت یا کسی کو بے جا گا لی گلو چ دینا یا کسی بزرگو ں کو بر ا بھلا کہنا ان کا مقصد نہیں ہو تا ۔مگر ہم تو جو کا م کر تے ہیں وہ خد ا تعا لیٰ کے حکم اور اسکی اجا زت اور اس کے اشارہ سے کر تے ہیں۔ اس نے ہمیں اس قسم کے زبا نی مبا حثا ت سے رو ک دیا ہو ا ہے چنا نچہ ہم کئی سا ل ہو ئے کہ کتا ب انجا م آتھم میں اپنا یہ معاہد ہ شا ئع بھی کر چکے ہیں اور ہم نے خدا سے عہد کیا ہے زبا نی مباحثات کی مجا لس میں نہ جا ویں گے ۔آپ جا نتے ہیں کہ ایسے مجمعو ں میں مختلف قسم کے لو گ آتے ہیں۔ کو ئی تو محض جا ہل اور دھڑے بندی کے خیا ل پر آتے ہیں کو ئی اس واسطے کہ تا کسی کے بزرگو ں کو گا لی گلو چ دیکر دل کی ہو س پو ری کرلیں اور بعض سخت تیز طبیعت کے لو گ ہو تے ہیں۔ سو جہا ں اس قسم کا مجمع ہو ا یسی جگہ جا کر مذہبی مباحثات کر نا بڑا نا زک معا ملہ ہے ۔کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ جب دو شخص مقابل میں کھڑے ہوتے ہیں جب تک وہ ثابت کرکے نہ دکھادیں کہ دوسرا مذہب بلکل غلطی پر ہے اور اس میں صداقت اور روحانیت کا حصہ نہیں وہ مردہ ہے اور خدا سے اسے تعلق نہیں ہے تب تک اس کو اپنے مذہب کی خوبصورتی دکھانی مشکل ہوتی ہے کیونکہ یہ دوسرے کے معائب کا ذکر کرناہی پڑے گا۔جو غلطیاںہیں اس میں اگر ان کا ذکر نہ کیا جاوے تو پھر اظہارِ حق ہی نہیں ہوتاتو ایسی باتوں سے بعض لوگ بھڑک اٹھتے ہیں ۔وہ نہیں برداشت کرسکتے۔طیش میںاکر جنگ کرنے کو آمادہ ہوتے ہیں لہٰذا ایسے موقہ پر جانا مصلحت کے خلاف ہے اور مذہبی تحقیقات کے واسطے ضروری ہے کہ لوگ ٹھنڈے دل اور انصاف پسند طبیعت لے کر ایک مجلس میں جمع ہوں۔ایسا ہو کہ ان میں کسی قسم کے جنگ و جدال کے خیالات جوش زن نہ ہو ں۔تو بہتر ہو پھر ایسی حالت میں ایک طرف سے ایک شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور جہاں تک وہ بول سکتا ہے نولے پھر دوسری طرف سے جانبِ مقابل بھی اسی طرح نرمی اور تہذیب سے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اسی طرح بار بار ہو تا ہے کہ افسوس کہ ابھی تک ہمارے ملک میںاس قسم کے متحمل لوگ اور صبر اور نرم دلیِ سے تحقیق والے نہیں ہیں ابھی ایسا وقت نہیں ایا ہاں امید ہے کہ خدا جلدی سے ایسا وقت لے اوے گا ہم نے تو ایسا ارادہ بھی کیا ہے کہ یہاں ایک ایسا مکان تیار کرایاجائے جس میں ہر مذہب کے لوگ ازادی سے اپنی تقریریں کر سکیں۔درحقیقت اگر کسی امر کو ٹھنڈے دل اور انصاف کی نظر بردباری نہ سناجاوے تو اس کی سچی حقیقت اور تہ تک پہنچنے کے واسطے ہزاروں مشکلات ہوتے ہیں۔دیکھئے ایک معمولی چھوٹاسا مقدمہ ہوتا ہے تو اس میں جج کس طرح طرفین کے دلائل ،انکے عذر وغیرہ کس ٹھنڈے دل سے سنتا ہے اور پھر کس طرح سوچ بچارکر پوری تحقیقات کے بعد فیصلہ کرتا ہے بعض اوقات سال ہی گذرجاتے ہیں جب دنیا کے مقدمات کا یہ حالہے تو دین کے مقدمات کا کیونکر دو چار دس بارہ منٹ میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے سائل کو سوال کرنا تو آسان ہے مگر جواب دینے والے کو جو مشکلات ہوتی ہیں انکا اندازہ کرنامشکل ہے ایک شخص اعتراض کردیوے