کو ئی کسر با قی نہیں رکھتے۔ ہر پہلو سے اس کے استیصا ل کر نے پر آما دہ اور ہر ایک کما ن سے اس پر تیر ما ر نے کو کمر بستہ ہو تے ہیں۔ چا ہتے ہیں کہ ذبح کر دیں اور ٹکڑ ے ٹکڑ ے کر کے قیمہ کر دیں ۔ادھر تویہ جو ش اٹھتا ہے مگر دوسر ی طر ف اس کے پا س ہزار دو ہزار لو گ آتے ہیں ۔ہزاروں کنجراور لنگو ٹی پو ش فقیر بنتے اور خلق اللہ کو گمر اہ کر تے ہیں مگر ان لو گو ں کو قتل اور کفر کا فتو یٰ کو ئی نہیں دیتا ان کی ہر حر کت بد عت اور شر ک سے پر ہو تی ہے ۔ ان کا کو ئی کا م ایسا نہیں ہو تا جو سر اسر اسلا م کے خلا ف نہ ہو۔ مگر ا ن پر کو ئی اعتر اض نہیں کیا جا تا ۔ ان کے لیے کسی دل میں جو ش نہیں اٹھتا غر ض اس میں سو چتا تھا کہ کیا حکمت ہے تو میر ی سمجھ میں آیا کہ اللہ تعا لیٰ کو منظور ہوتا ہے کہ صادق کا ایک معجزہ ظاہر کرے۔ باوجود اس قسم کی ممانعت کے اور دشمن کے تیر وتبر کے چلانے کے صا د ق بچایا جا تا اور اسکی روزافزوں تر قی کی جا تی ہے خدا کا ہا تھ اسے بچا تا اور اس کو شا دا ب وسر سبز کر تا ہے ۔ خدا کی غیر ت نہیں چا ہتی کہ کا ذب کو بھی اس معجز ہ میں شریک کر ے ۔ اسی واسطے اس طر ف سے دنیا کے دلو ں کو بے پر وا کر دیتا ہے ۔ گو یا اس جھو ٹے کی کسی کو پروا نہیں ہو تی ۔ اس کا وجو ددلو ں کو تحر یک نہیں دے سکتا ۔ مگر بر خلا ف اس کے صا دق کا وجود تبا ہ ہو نے والے دلو ں کو نے قرا ر اور بے چین کر کے ایک رنگ میں ایک طر ح سے خبر دیتا ہے اور ان کے دل نے قرا ر ہو تے ہیں ۔کیو نکہ دل اندرہی ندر جا نتے ہیں کہ یہ شخص ہما را کا روبا ر تبا ہ کر نے آیا ہے ۔ اس واسطے نہا یت اضطر اب کی وجہ سے اس کے ہلا ک کر نے کو اپنے تما م ہتھیا روں سے دوڑتے ہیں مگر اس کا خدا خود محافظ ہو تاہے ۔ خدا اس کے واسطے طا عون کی طر ح وا عظ بھیجتا اور اس کے دشمنو ں کے واعظو ںپر ا سے غلبہ دیتا ہے ۔ وہ خدا کے واعظ کا مقا بلہ نہیں کر سکتے۔ اب دیکھیئے کہ اتنے لوگ جو ہر جمعہ کو جن کی نوبت اکثر پچاس ساٹھ تک پہنچ جاتی ہے اُن کو کون بیعت کے لیے لا تا ہے ؟یہی طا عو ن کا ڈنڈاہے جو ان کو ڈرا کر ہما ری طرف لے آتا ہے ورنہ کب جا گنے والے تھے اسی فر شتہ نے ان کو جگا یا ہے۔ (الحکم جلد ۷ نمبر ۹ صفحہ ۹،۱۰مو رخہ ۱۰ما رچ ۳ ۱۹۰ ئ؁) ۲۸ فر وری ۱۹۰۳ ئ؁ (دربا ر شام) دربا ر شام میں آر یہ لو گو ں میں سے چند لو گ حضر ت اقد س کی زیا رت کے واسطے آئے ۔حضر ت نے پو چھا آ پ بھی جلسہ کی تقریب پر آئے ہیں ؟ انہو ں نے کہا حضو ر ہم لو گ تو اصل میں یہ با ت سنکر آئے ہیں کہ آپ کا بھی لیکچر ہو گا ورنہ ہما ری اس جگہ آنے کی چند اں خو اہش نہ تھی ۔ حضر ت اقد س نے فر ما یا کہ