سے بے فکر ی ہو تی ہے اچھی طر ح دلجمعی سے کا م ہو سکتا ہے رات کو مر دہ کی طر ح پڑے رہنا اور سو نے سے کیا حا صل ؟
انسا ن کی خو ش قسمتی
اگر ہو سکے تو د ین کی خد مت کر نی چا ہیئے اس سے زیا دہ خو ش قسمتی اور کیا ہے کہ انسا ن کا وقت ، وجو د ،قو یٰ ،ما ل ، جا ن خدا کے د ین کی خد مت میں خر چ ہو ۔ تو صر ف مر ض کے دورہ کا ا ند یشہ ہو تا ہے۔ ورنہ دل یہی کر تا ہے کہ سا ر ی سا ری رات کئے جا ویں۔ ہما ری تو قریبا تما م کتا بیں ا مر اض وعوا رض میں ہی لکھی گئی ہیں ازالہ وہا م کے وقت میں بھی ہم کو خا ر ش تھی ۔ قریبا ایک بر س تک وہ مر ض رہاتھا ۔
منشی اشیا کا استعما ل عمر کو گھٹا دیتا ہے
اللہ اللہ ۔کیا ہی عمدہ قر آنی تعلیم ہے کہ انسا ن کی عمر کو خبیث اور مضر اشیا ء کے ضر ر سے بچا لیا ۔ یہ منشی چیزیں شر اب وغیرہ انسا ن کی عمر کو بہت گھٹا د یتی ہیں ۔اس کی قو ت کو بر با د کر د یتی ہیں ۔ اور بڑھا پے سے پہلے بو ڑھا کرد یتی ہیں ۔ یہ قر آنی تعلیم کا احسا ن ہے کہ کروڑوں مخلوق ان گنا ہ کے ا مر اض سے بچ گئی جو ان نشہ کی چیزیں سے پیدا ہو تی ہیں ۔
قادیا ن کے آریہ سما ج کے جلسہ پر جو آریہ آئے تو ان کی گندہ دہنیسوں اور گا لی گلو چ کا کسی نے حضر ت ا قد س کی خد مت میں ذکر کیا۔ فر ما یا کہ :۔
زبا ن کی تہذیب کا ذریعہ
انسا نی زبا ن کی چھر ی تو رک سکتی ہی نہیں ۔ جب خدا کاخو ف کسی دل میں نہ ہو ۔انسانی زبا ن کی بے با کی اس امر کی دلیل ہے کہ اس کا دل سچے تقویٰ سے محر وم ہے ۔ زبا ن کی تہذیب کا ذریعہ صر ف الہیٰ اور سچا تقو یٰ ہے ۔ ان کی گا لیو ں پر ہمیں کیا افسو س ہو ۔انہوں نے تو نہ خدا کو سمجھا اور نہ حق العبا د کو ۔ ان کو خبر نہیں کہ زبا ن کس چیز سے رُکتی ہے ۔
تما م قوت اور تو فیق خدا ہی کو ہے۔ اور اس کی عنا یت اور نصر ت سے ہی انسا ن کچھ لکھ پڑھ سکتاہے ۔ شا ید اس کتا ب کے خا تمہ کے لکھے جا نے سے اس قوم کی قو ت وہمت اور دلا ئل کا خا تمہ ہو جا وے ۔
صاد ق کی مخا لفت کا راز
میں نے کل سو چا کہ اس میں کیا حکمت ہے کہ جب کو ئی صاد ق خدا کی طر ف سے آتا ہے تو اس کو لو گ کتو ں کی طر ح کا ٹنے کو دوڑتے ہیں ۔ اس کی جا ن ۔ اس کا ما ل ۔ اس کی عزت وآبر و کے درپے ہو جا تے ہیں ۔مقدمات میں اس کو کھینچتے ہیں ۔گو ر نمنٹ کو اس سے بد ظن ر تے ہیں غر ض ہر طر ح ان سے بن پڑتا ہے اور تکلیف پہنچا سکتے ہیں اپنی طر ف سے