۲۷ فر ور ی۱۹۰۳ئ؁ (قبل از عصر) مو لو ی عبد الکر یم صا حب نے عر ض کی کہ حضو ر اردو کتا بو ں کا تو کبھی بھی پر وف نہیں آتا ۔ فر ما یا :۔ اردو میں پنجابی الفاظ کا استعمال اردوکیا بھیجنا ہو تا ہے وہ تو صا ف ہو تا ہے ۔ ہا ں بعض نا دا ن اتنا اکثر اعتر اض کر دیا کر تے ہیں۔ کہ اردو میں پنجا بی ملا دیتے ہیں مگر یہ ان کی غلطی ہے ۔ ایک شخص نے میر ی طر ف سے کسی ایسے ہی معتر ض کو جو اب دیا کہ تم انصا ف کر وکہ ا گر وہ اردو میں پنجا بی کے ا لفا ظ ملا د یتے ہیں تو غضب کیا ہو ا ۔؟ ان کی ملکی اور ما دری زبا ن ہے اس کا کیا حق نہیں ؟ جب وہ انگر یزی یاعر بی اور دوسر ے کی زبا ن کا لفظ اردو میں ملا تے ہیں تو تم اعتر ا ض نہیں کر تے مگر جب کو ئی پنجا بی کا لفظ مل جا وے تو اعتر ا ض کر تے ہو ۔ شر م توکر و ۔ اگر تعصب نہیں تو کیا ہے (دربا ر شا م ) اپنا بو جھ خو د اٹھائیں ایک شخص نے خط لکھا تھا کہ حضو ر مجھے کر ایہ بھیجا جا وے ۔ میں حا ضر خد مت ہو ں گا ۔ فر ما یا :۔ من جر ب المجر ب حلت بہ الند امہ ۔ ہم نے با ر بار ایسے لو گو ں کا تجربہ کر لیا ہے ان میں اخلا ص اور نیک نیتی نہیں ہو تی تو کیا ضر ور ت ہے کہ اس طر ح میر ا روپیہ ضا ئع کیا جا ئے وہی روپیہ دینی کا م میں خر چ ہو گا ۔ ایسا شخص جو معزز ہے وہ ہما رے حا فظ معین الد ین سے بھی گیا گذرا ہے یہ بھی ہمیںقر یبا پند رہ یا بیس روپے دے چکا ہے کبھی دو آنے اورکبھی ایک آنہ ما ہو ار دیتا ہے۔ تو ایسے بیکس شخص جب لنگر اور دیگر اخراج ت کے واسطے کچھ دے سکتے ہیں۔ تو وہ شخص کیو ں اپنا بو جھ نہیں سنبھال سکتا ؟ اور شر لعیت نے تو بو جھ بھی نہیں ڈا لا ۔ حج کی تو فیق نہ ہو تو حج بھی سا قط ہو جا تا ہے اسی طر ح اس جگہ بھی گھربٹھیے بٹھا ئے بیعت ہو سکتی ہے صر ف ایک پیسہ کا کا رڈ صر ف ہو تاہے ۔ رات کی فضیلت فر ما یا :۔ میںنہیں سمجھتا کہ رات اور دن میں فر ق ہی کیا ہے ۔ صر ف نو را ور ظلمت کا فر ق ہے سو وہ نو ر مضو عی بن سکتا ہے بلکہ رات میں کو تو یہ ایک بر کت ہے۔ خدا نے بھی اپنے فیضا ن عطا کر نے کا وقت را ت ہی رکھا ہے چنا نچہ تہجد کا حکم را ت کو ہے ۔ رات میں دوسر ی طر فو ں سے فر اغت اور کش مکش