دن کی یا د گا ر قا ئم کر نی چا ہیئے کہ وہ دن بڑا متبر ک جا ننا چا ہیئے ۔ اس پر آپ نے فر ما یا کہ ۔ اصل میں ہما رے یہا ں کے آریہ بھو ل گئے۔ ان کو بھی چا ہیئے تھا کہ ۶ ما ر چ کا دن جلسہ کے واسطے مقر ر کر تے اور ان لو گو ں کو تو خصو صیت سے اس دن کی تعظیم کر نی چا ہیئے کیو نکہ لیکھر ام اصل میں اس جگہ سے یہ تبر کا ت لے گیا تھا ۔ تمبا کو نو شی مضر ت ایک شخص نے امر یکہ سے تمبا کو نو شی کے متعلق اس کے بہت سے محبر ب نقصان ظا ہر کر تے اشتہا ر دیا ۔ اس کو آپ نے سنا ۔ فر ما یا کہ :۔ اصل میں ہم اس لیے اسے سنتے ہیں کہ اکثر نو عمر لڑکے ،نو جو ا ن تعلیمیا فتہ بطو ر فیشن ہی کے اس بلا میں گر فتا ر و مبتلا ہو جا تے ہیں تا وہ ان با تو ں کو سنکر اس مضر چیزکے نقصا نا ت سے بچیں ۔ فر ما یا ۔ اصل میںتمبا کو ایک دھواں ہو تا ہے جو اندرونی اعضاء کے واسطے مضر ہے اسلا م لغو کا مو ں سے منع کر تا ہے اور اس میں نقصان ہی ہو تا ہے لہذااس سے پر ہیزہی اچھا ہے ۔ پیشگو ئیا ں ہستی با ریتعاا لیٰ کے متعلق معرفت بخشتی ہیں اللہ تعالیٰ کی ہستی جس طر ح سے پیشگوئی دلا تی ہے ایسا اور کو ئی سچا علم نہیں معرفت کو زیا دہ کر نے کا صف یہی ایک طر یق ہے ۔ ہما ری نسبت بھی اللہ تعا لیٰ نے بر اہین احمد یہ میں فر ما یا ہے ۔ کہ تیر ی صداقت کو پیشگوئی کے ذریعہ سے ظا ہر کر و ں گا ۔ پنڈت دیا نند اور نیو گ مجھے ایک دفعہ یہ خیا ل آیا کہ کیا وجہ تھی کہ د یا نند نے نے حیا ئی اور بے غیر تی کا مسئلہ نکالا ۔جسے کو ئی شر یف آریہ بھی بطیب خا طر پسندنہیں کر تا ۔ بلکہ اس کا نا م سنکر گرد ن نیچی کرلیتا ہے او ر چا ہ ندا مت میں غر ق ہو جا تا ہے تو میر ی سمجھ میں آیا کہ چو نکہ وہ شخص بغیر بیو ی کے تھا اس واسطے وہ سا رے اخلا ق جو بیو ی کے ہو نے سے وابستہ ہیں ان سب سے وہ محر م تھا ۔ غیر ت اور حمیت بھی کر سکا اور نہ سمجھا کہ اس طر ح سے میں ہزاروں لو گو ں کے گلے پر چھر ی پھیرتا ہو ں ۔یہی وجہ تھی ورنہ اگر اس کے عیا ل ہو تے وہ ہر گز ایسی بے عزتی کو روانہ رکھتا اب بہت سے شر یف آریہ ہیں جو اسے گلے پڑا ڈھو ل سمجھ کر ہی صر ف زبا ن سے ما ن لیتے ہیں ورنہ عملدرآمد بہت ہے ۔ (الحکم جلد ۷ نبمر صفحہ ۱۵ ۔۱۶ مو ر خہ ۲۸ فر ور ی۱۹۰۳ئ؁)