۲۳ فر وری ۱۹۰۳ ئ؁ (ظہر سے پہلے) بنی اسر ائیل اور انکے مثیل ۔ فر ما یا :۔ جس طر ح اللہ تعا لیٰ نے فضائل میں اس قو م اسلا م کو امت مو سیؑ کا مثیل بنا یا ہے ایسے ہی زوا ئل بھی کل وہ اس قو م میں جمع ہیں جو ان میں پا ئے جا تے تھے ۔ یہ قو م تو یہو د کے نقش قد م پر ایسی چلی ہے جیسے کو ئی اپنے آقا ومو لی ٰمطا ع رسو ل کی پیر وی کر تا ہے یہو د کے واسطے قر آن شر یف میں حکم تھا کہ وہ دود فعہ فسا د کر یں گے اور پھر ان کی سزا وہی کے واسطے اللہ تعا لیٰ اپنے ان پر مسلط کر ے گا۔ چنا نچہ بخت نصر اور طیطوس دو نو نے ان لو گو ں کو بر ی طرح ہلا ک کیا اور تبا ہ کیا ۔ اس کی مما ثلث کے لیے اس قو م میں نمو نہ مو جو د ہے کہ جب یہ فسق وفجو ر میں حد سے نکلنے لگے اور خدا کے احکا م کی ہتک اور شعا ئر اللہ سے نفر ت میں ان آگئی اور دنیا اور اس کی زیب وزنیت میں ہی گم ہو گئے تو اللہ تعا لیٰ نے ان کو بھی اسی طر ح ہلا کو چنگنیرخا ں وغیر ہ سے بر با د کر ایا ۔ لکھا ہے کہ اس وقت یہ آسما ن سے آواز آتی تھی ا یھاالکفا ر اقتلو االفجار غر ض فا سق فا جر انسا ن خدا کی نظر میں کا فر سے ذلیل اور قا بل نفر ین ہے ۔ اگر کو ئی کتا ب قر آن شر یف کے بعد نا زل ہو نے والی ہو تی تو ضر ور ان لو گو ں کے نا م بھی اسی طر ح عبا د النا میں دا خل کئے جا تے ۔ یہ بھی لکھا ہے کہ آخر کا ر بخت نصر یا اسکی اولا دیت پر ستی وغیر ہ سے با ز آکر وا حد پر ایما ن لا ئی ہے اسی طرح ادھر بھی چنگنیرخا ں کی اولاد مسلما ن ہو گئی ۔ غر ض خدا نے مما ثلث میں طا بق النعل والا صاحب معا ملہ کر کے دکھا دیا ہے ۔ عا دل گو ر نمنٹ بعض با د شا ہو ں کی معد لت گستر ی کے متعلق ذکر ہو ا ۔ آپ نے فر ما یا کہ:۔ ہما ری گو ر نمنٹ ہم نے اسے غو ر دیکھا ہے کہ نا زک معا ملا ت میںبھی بلا تحقیق کے کو ئی کا ر گذار ی نہیں کر تی ۔ بغا وت جیسے خطر نا ک معا ملا ت میں تو بلا تحقیق اور فر وجر م اور ثبو ت کے سوا گر فت نہیںکی جا تی ۔تو دوسر ے معا ملا ت میں بھلا کہا ں ایسا کر نے لگی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اور حکا مِ وقت ہیں کہ انکے نزدیک بہم پہنچایا جا وے یا کو ئی لمبی تحقیقا ت کی جا وے ۔ دیکھئے ہما را مقد مہ پا دری والا بھی تو ایک بغا وت کے پہ رنگ میں تھا۔ کیو نکہ ایک پا دی نے جو ان کے مذ ہب کا لیڈرا ور گروما نا جا تا تھا ۔اس نے ظا ہر کیا تھا کہ گو یا ہم نے اس کے قتل کا منصوبہ کیا ہے اور پھر اس پر بڑ ے بڑے اور پا دریوں کی سفا رشیں بھی مگر بلا تحقیق کے ایک قد م بھی نہ اٹھا یا گیا اور