تو اسلا م کے معتر ض ہیں ۔ یہ نہیں دیکھتے کہ ایک مقنن کو قانو ن بنا نے وقت کن کن با تو ں کا لحا ظ ہو تا ہے ۔ بھلا اگر ایک شخص کی بیو ی ہے اسے جذا م ہو گیا ہے یا آتشک میں مبتلا ہے یا اند ھی ہو گی ہے یا اس قا بل ہی نہیں کہ اولا د اس سے حا صل ہو سکے وغیر ہ وغیر ہ عوارض میں مبتلا جا وے تو اس حا لت میں اب اس خا وند کو کیا کر نا چا ہیئے کیا اسی بیو ی پر قنا عت کر ے ؟ایسی مشکلا ت کے وقت کیا تد بیر پیش کر تے ہیں ۔ یا بھلا اگر وہ کسی قسم کی بد معا شی زنا وغیر ہ میں مبتلا ہو گئی تو کیا اب اس خا وند کی غیر ت تقا ضا کر ے گی کہ اسی کو اپنی پر عصمت بیو ی کا خطا ب دیرکھے ؟ خدا جا نے یہ اسلا م پر ا عتر اض کر تے وقت اند ھے کیو ں ہو جا تے ہیں ۔ یہ با ت ہما ر ی سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ مذہب ہی کیا ہے جو انسا نی ضروریا ت کو ہی پو را نہیں کر سکتا ۔ اب ان مذکو رہ حا لتو ں میںعیسویت کیا تدبیر بتا تی ہے ؟ قر آن کی عظمت ثا بت ہو تی ہے کہ انسا نی کو ئی ایسی ضر ورت نہیں جس کا پہلے ہی اس نے قا نو ن نہ بنا دیا ہو ۔ اب تو انگلستا ن میں بھی ایسی مشکلا ت کی وجہ سے کثر ت از دواج اور طلا ق شروع ہو تی جا تی ہے ۔ ابھی ایک لا رڈ کی با بت لکھا تھا کہ اس نے دوسر ی بیو ی کر لی آخر اسے سزا بھی ہو ئی مگر وہ امریکہ میںجا رہا ۔ غو ر سے دیکھو کہ انسا ن کے واسطے ایسی ضر ور تیں پیش آتی ہیں یا نہیں کہ یہ ایک سے زیا دہ بیو یا ں کر لی جب ایسی ضرور تیں ہو ں اور انکا علا ج نہ ہو تو یہی نقص ہے جس کے پو را کر نے کو قر آن شر یف جیسی اتم اکمل کتا ب بھیجی ہے ۔ شر اب کی مضّرت اسی اثنا میں شر اب کا ذکر شر وع ہو گیا ۔ کسی نے کہا کہ اب تو حضو ر شر اب کے لسبکٹ بھی ایجا د ہو ئے ہیں فر ما یا :۔ شراب تو انتہا ئی شر م ۔حیا ۔عفت ۔ عصمت کی جا نی دشمن ہے انسا نی شر افت کو ایسا کھو دیتی ہے کہ جیسے کتے ۔ بلے ۔ گد ھے ہو تے ہیں ۔ اس کا پیکر با لکل انہی کے مثابہ ہو جا تا ہے ۔ اب اگر بسکٹ کی بلا دنیا میں پھیلی تو ہزاروں نا کر دہ گنا ہ بھی ان میں شا مل ہو جا یا کر یں گے ۔ پہلے تو بعض کو شر م وحیا ہی روک دیتی تھی۔ اب بسکٹ لیے اور جیب میں ڈال لیے ۔ با ت یہ ہے کہ وجا ل نے تو اپنی کو ششو ں میں تو کمی نہیں رکھی کہ دنیا کو دفسق وفجو ر سے بھرد ے مگر آگے خدا کے ہا تھ میں ہے جو چاہے کر ے ۔اسلا م کی کیسی عظمت معلو م ہو تی ہے ایک حد یث میں ہے کہ ایک شخص نے اسلا م پر کو ئی اعر اض کیا ۔ اس سے شر اب کی بد بو آئی ۔ اس کو حد ما ر نے کا حکم دیا گیا کہ شر اب پی کر اسلا م پر اعر اض کیا ۔ مگر اب تو کچھ حد وحسا ب نہیں ۔ شراب پیتے ہیں۔ زنا کر تے ہیں ۔ غر ض کو ئی بد ی نہیں جو نہ کر تے ہو ں مگر با یں ہمہ پھر اسلا م پر اعر اض کر نے کو تیا ر ہیں۔ (الحکم جلد ۷ نمبر ۸ صفحہ ۱۴ ۔۱۵ مو ر خہ ۲۸ ـــفر وری ۱۹۰۳ئ؁)