سے ز یا دہ کا م لیں اور اسے آرام کر نے کا وقفہ ہی نہ دیں تو بہت قر یب ایسا وقت ہو گا کہ ہم اس کی وجو د کو ہی ضا ئع کر کے تھو ڑے فا ئدہ سے بھی محر و م ہو جا ئیں گے نفس کو گھو ڑے سے منا سبت بھی ہے ۔
بہتر ین وظیفہ
سیا لکو ٹ کے ضلع کا ایک نمبر دار تھا ۔ اس نے بیعت کر نیک کے بعد پو چھا کہ حضو ر اپنی ز با ن مبا رک سے کوئی وظیفہ بتا دیں۔
فر ما یاکہ نمازوں کو سنوار کر پڑھو کیونکہ ساری مشکلات کی یہی کنجی ہے اور اسی میں ساری لذت اور خزانے بھرے ہوئے ہیں۔صدق دل سے روزے رکھو ۔خیرات کرو۔درود اور استغفار پڑھا کرو۔اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو ۔ہمسایوں سے مہربانی سے پیش آئو۔بنی نوع بلکہ حیوانوں پر بھی رحم کرو۔ ان پر بھی ظلم نہیں چاہیے ۔خدا سے ہر وقت حفاظت چاہتے رہو کیونکہ ناپاک اور نامرادہے وہ دل جو ہر وقت خدا کے آستانہ پر نہیں گرتا وہ محروم کیا جاتا ہے ۔دیکھو اگر خدا ہی حفاظت نہ کرے تو انسان کا ایک دم گذارہ نہیں۔زمین کے نیچے سے لے کر آسمان کے اوپر تک کا ہر طبقہ اس کے دشمنوں کا بھرا ہوا ہے۔اگر اسی کی حفاظت شاملِ حال نہ ہو تو کیا ہو سکتا ہے۔ دعا کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ ہدایت پر کار بند رکھے۔کیونکہ اس کے ارادے دو ہی ہیں۔گمراہ کرنا اور ہدایت دینا جیسا کہ فرماتا ہے ۔یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا۔پس جب اس کے ارادے گمراہ کرنے پر بھی ہیں تو ہر وقت دعا کرنی چاہیے کہ وہ گمراہی سے بچاوے اور ہدایت کی توفیق دے۔نرم مزاج بنو کیونکہ جو نرم مزاجی اختیار کرتا ہے خدا بھی اس سے نرم معاملہ کرتا ہے ۔اصل میں نیک انسان تو اپنا پائوں بھی زمین پر پھونک پھونک کر احتیاط سے رکھتا ہے تاکہ کسی کیڑے کو بھی اس سے تکلیف نہ ہو۔ غرض اپنے ہاتھ سے،پائوں سے،آنکھ وغیرہ اعضاء سے کسی نوع کی تکلیف نہ پہنچائو اور دعائیں مانگتے رہو ۔
تعدّدازدواج
مرزا خدا بخش صا حب ما لیر کو ٹلہ سے تشر یف لا ئے تھے۔ ا ن سے وہا ں کے جلسہ کے حا لا ت دریا فت فر ما تے رہے ۔ انہو ں نے سنا یا کہ ایک شخص نے ہو ں اعتراض کیا کہ اسلا م میں جو چا ر بیو یا ںرکھنے کا حکم ہے یہ بہت خر اب ہے اور سا ری بد اخلا قیو ں کا سر چشمہ ہے
حضر ت اقدس نے فر ما یا کہ :۔
چا ر بیو یا ں رکھنے کا حکم تو نہیں دیا بلکہ اجا زت دی ہے کہ چا ر تک رکھ سکتا ہے اس سے یہ تو لا زم نہیں آتا کہ چا ر ہی کو گلے ڈھو ل بنا لے۔ قر آن کا منشا ء تو یہ ہے کہ چو نکہ انسا نی ضرورت مختلف ہو تی ہیں اس واسطے ایک سے لیکر چا ر تک اجا زت دی ہے ایسے لو گ جو ایک اعتر اص کو اپنی طر ف سے پیش کر تے ہیں اور پھر وہ خو د اسلا م کا دعو یٰ بھی کر تے ہیں میں نہیں جا نتا کہ ان کا ایما ن کیسے قا ئم رہ جا تا ہے ۔وہ