نہیں رہے گی۔تم سارے ہی قویٰ پورے طور سے اللہ تعالیٰ کی فرمابردار ی میں لگادو جوجو کمی کسی قوت میں ہو اسے اس پان والے کی طرح جو گندے پان تلاش کرکے پھینک دیتا ہے اپنی گندی عادت کو پھینکو اور سارے اعضاء کی اصلاح کر لو یہ نہ ہو کہ نیکی کرو اور نیکی میں بدی ملادو ۔توبہ کرتے رہو۔استغفار کرو۔ دعا سے ہر وقت کام لو۔ ولی اللہ ولی کیا ہو تے ہیں یہی صفا ت تو اولیاء کے ہو تے ہیں۔ ان کی آنکھ ،ہا تھ ،پا وں غر ض ہو ئی عضو ہو ۔منشا ء الہی کے خلا ف حر کت نہیں کر تے ۔خدا کی عظمت کا بو جھ ان پر ایسا ہو تا ہے کہ وہ خدا کی زیا رت کے بغیر ایک جگہ سے دسری جگہ نہیں جا سکتے پس تم بھی کو شش کرو ۔ خدا نجیل نہیں۔ ہر کہ عا رف تر است تر سا ں تر دربا رشا م قرآن شر یف کی ایک بر کت ایک شخص نے عر ض کی کہ حضور میر ے واسطے دعا کی جا وے کہ میر ی زبا ن قرآن شر یف اچھی طر ح ادا کر نے لگے ۔قرآن شر یف ادا کرنے کے قابل نہیں اور چلتی نہیں ۔میری زبان کھل جاوے فرمایا کہ تم صبر سے قرآن شریف پڑھتے جاو۔اللہ تعا لیٰ تمہا ری زبا ن کو کھو ل دیگا ۔ قرآن شر یف میں یہ ایک بر کت ہے کہ اس سے انسا ن کا ذہن صا ف ہو تا ہے اور زبا ن کھل جا تی ہے بکلہ اطبا ء بھی اس بیما ری کااکثر یہ علا ج بتا یا کر تے ہیں ۔ (لحکم جلد ۷ نمبر ۹ صفحہ ۷ مو رخہ ۱۰ ما رچ ۱۹۰۳ئ؁) ۲۲ فر وری ۱۹۰۳ئ؁ کچھ حصّہ رات کو آرام ضرور کر نا چا ہیئے کچھ ایک مخلص کی بد خو ابی کے تذکر ہ پر فر ما یا :۔ دیکھو قرآن شر یف سورہ مزمل میں صا ف تا کید ہے کہ انسا ن کو کچھ رات کو آرام ضرور کر نا چا ہیئے ۔اس سے دن بھر کی کو فت اور تکا ن دور ہو کر قویٰ کو اپنا حر ج شد ہ ما دہ بہم پہنچا نے کا وقفہ جا تا ہے ۔ رسو ل اکر م ﷺکا فعل یعنی سنت بھی اسی کے مطا بق ثا بت ہے چنا نچہ فر ما تے ہیں اصلی و الو م۔ اصل میں انسا ن کی مثا ل ایک گھو ڑے کی سی ہے ۔ اگر ہم ایک گھو ڑے سے ایک دن اس کی طا قت