اور دین اطا عت کا نا م ہے نہ یہ کہ اپنے نفس اور ہو اوہوس کی تابعد اری سے جو ش دکھا یں ۔
مغلو ب الغضب غلبہ ونصر ت سے محروم ہو تا ہے
یا د رکھو جو شخص سختی کر تا اور غضب میں آجا تا ہے اس کی زبا ن سے معا رف اور حکمت کی با تیں ہر گزنہیں نکل سکتیں ۔ وہ دل حکمت کی با تو ں سے محر وم کیا جا تا ہے جو اپنے مقا بل کے سا منے جلد ی طیش میں آکر آپے سے با ہر ہو جا تا ہے ۔ گند ہ ذہن اور بے لگا م کے ہو نٹ لطا ئف کے چشمہ سے بے نصب اور محر وم کئے جا تے ہیں ۔ غضب او حکمت دونو ں نہیں ہو سکتے جو مغلو ب لغضب ہو تا ہے اس کی عقل مو ٹی اور فہم کند ہو تا ہے ۔ اس کو کبھی کسی مید ان میں غلبہ اور نصر ت نہیں دئے جا تے ۔ غضب نصب جنو ن ہے جب یہ زیا دہ بھڑ کتا ہے تو پو را جنو ن ہو سکتا ہے ۔ہما ری جما عت کو چا ہیئے کل نا کر دنی افعا ل سے دور رہا کر یں ۔وہ شا خ جو اپنے تنے اور درخت سے سچا تعلق نہیں رکھتی وہ بے پھل رہ جا تی ہے سو دیکھو اگر تم لو گ ہما رے اصل مقصد کو نہ سمجھو گے اور شر ائط پر کا ر بند نہ ہو گے تو ان وعدوں کے وارث تم کیسے بن سکتے ہو جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں
نصیحت کا پیر ایہ
جسے نصیحت کر نی ہو اسے زبا ن سے کر و ۔ ایک ہی با ت ہو تی ہے وہ ایک پیر ایہ میںادا کر نے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسر ے سے پیر ایہ میں دوست بنا دیتی ہے پس
جا دلھم با لتی ھی احسن (البقر ہ:۲۷ )
کے مو افق اپنا عمل درآمد رکھو۔ اسی طر ز کلا م ہی کا نا م خدا نے رکھا ہے ۔ چنا نچہ فر ما یا ہے
یو تی الحکمت من یشائ(البقر ہ:۲۷)
مگر یا درکھو جیسی یہ با تیں حر ام ہیں ویسے ہی نفا ق بھی حرا م ہے ۔ اس بات کا بھی خیا ل رکھنا کہ کہیں پیرا یہ ایسا نہ ہو جاوے کہ اس کا رنگ نفاق سے مشابہ ہو ۔موقعہ کے موافق ایسی کاروائی کرو جس سے اصلاح ہو تی ہو۔ تمہاری نرمی ایسی نہ ہو کہ نفاق بن جاوے اور تمہارا غضب ایسا نہ ہو کہ بارود کی طرح جب آگ لگے تو ختم ہونے میں ہی نہیں اتی ۔بعض لوگ تو سے سودائی ہو جاتے ہیں اور اپنے ہی سر میں پتھر مار لیتے ہیں۔اگرہمیں کوئی گالی دیتا ہے تب بھی صبر کرو۔میں سمجھتا ہوں کہ جب کسی کے پیرو مرشد کو گالیاں دی جاویں یا اس کے رسول کو ہتک آمیزکلمے کہے جاویں تو کیساجوش ہوتا ہے مگر تم صبرکرو اورحلم سے کام لو ۔
مسلوب الغضب بن جائو
ایسا نہ ہو کہ تمہارا اس وقت کا غصہ کوئی خرابی پیدا کردے۔ جس سے سارا سلسلہ بد نام ہو یا کوئی مقدمہ بنے جس سے سب کو تشویش ہو ۔ سب نبیوں کو گالیاں دی گئی ہیں۔ یہ انبیا کا ورہ ہے ۔ ہم اس سے کیونکر محروم رہ سکتے تھے ایسے بن جائو کہ گویا مسلوب الغضب ہو ۔تم کو گویا غضب کے قویٰ ہی نہیںدیئے گئے ۔
دیکھو اگر کچھ بھی تاریکی کا حصہ ہے تونور نہیں آے گا۔ نور اور ظلمت جمع نہیں ہو سکتے۔ جب نور آجائے گا تو ظلمت