ہما را صر ف ایک ہی رسو لؐ اور ایک ہی کتا ب ہے۔
ہما را صر ف ایک ہی رسو ل ہے۔ اور صر ف ایک ہی قر آن شر یف اس رسو ل پر نا زل ہواہے جس کی تا بعداری سے ہم خدا کو پاسکتے ہیں آج کل فقر اء کے نکا لے ہو ئے طر یقے اور گد ی نشینو ں اور سجا دہ نشینو ں کی سیفیا ں اور دعا یئں اور درود اور وظا ئف یہ سب انسا ن کو مستقیم راہ سے بھٹکا نے کا آلہ ہیں ۔ سو تم ان سے پر ہیز کر و۔ ان لو گو ں نے آنحضر ت ﷺ کے خا تم الا نبیا ء ہو نے کی مہر کو تو ڑنا چا ہا گو یا اپنی الگ ایک شر یعت بنا لی ہے۔ تم یا درکھو کہ قر آن شر یف اور رسو ل ﷺ کے فر مان کی پیر و ی اور نما ز روزہ و غیر ہ جو مسنو ن طر یقے ہیں ان کے سو ا خدا کے فضل اور بر کا ت کے دروازے کھو لنے کی اور کو ئی کنجی ہے ہی نہیں ۔ بھو لا ہو ا ہے وہ جو ان راہو ں کو چھو ڑ کر کو ئی نئی را ہ نکا لتا ہے ۔ ناکام مر یگا وہ جو اللہ اور اس کے رسو ل کے فر مو دہ کا تا بعدار نہیں بلکہ اور اور راہو ں سے اسے تلا ش کر تا ہے ۔
ہر قسم کے گنا ہو ں سے بچو
دیکھو گنا ہ کبیر ہ بھی ہیں ان کو تو ہر ایک جا نتا ہے اور اپنی طا قت کے مو افق نیک انسا ن سے بچنے کی کو شش بھی کر تا ہے مگر تما م گنا ہو ں سے کیا کبا ئر اور کیا صغا ئر سب سے بچو ۔ کیو نکہ گنا ہ ایک ز ہر ہے جس کے استعمال سے زند ہ رہنا محا ل ہے گنا ہ ایک آگ ہے ۔جو روحا نی قویٰ کو جلا کر خا ک سیا ہ کر د یتی ہے۔ پس تم ہر قسم کے کیا صغیرہ کیا کبیرہ سب اندرونی بیرونی گنا ہو ں سے بچو ۔آنکھ کے گنا ہو ں سے ،کان نا ک اور زبا ن اور شر مگا ہ کے گنا ہو ں سے بچو ۔ غر ض ہر عضو کے گنا ہ زہر سے بچتے رہو اور پر ہیز کر تے ر ہو ۔
نما ز گنا ہو ں سے بچنے کا آلہ ہے
نما ز گنا ہو ں سے بچنے کا آلہ ہے ۔نما ز کی یہ صفت ہے کہ انسا ن کو گنا ہ اور بد کا ری سے ہٹا دیتی ہے سو تم ویسی نما ز کی تلا ش کرو اور اپنی نما ز کو ایسی بنا نے کی کو شش کرو ۔ نما ز نعمتو ں کی جا ن ہے ۔ اللہ تعا لیٰ کے فیض اسی نما ز کے ذر یعہ سے آتے ہیں سواس کو سنو ار کر ادا کر و۔ تا کہ اللہ تعا لیٰ کی نعمت کی وارث بنو۔
ہما را طر یق نر می ہے
یہ بھی یا د ر کھو ہما را طر یق نر می ہے ۔ ہما ری جما عت کو چا ہیئے کہ اپنے مخا لفو ں کے مقا بل پر نر می سے کا م لیا کر ے تمہا ری آواز تمہا ر ے مقا بل کی آواز سے بلند نہ ہو ۔ اپنی آواز اور لہجہ کو ایسا بنا وکہ کسی دل کو تمہاری آواز سے صد مہ نہ ہو وے ۔ہم قتل اور جہاد کے واسطے نہیں آئے بلکہ ہم تو متقو لو ں اور مر د ہ دلو ں کو زندہ کر نے اور ان میں زند گی کی روح پھو نکنے کو آئے ہیں ۔ تلو ار سے ہما را کا روبا رنہیں نہ یہ ہما ری تر قی کا ذریعہ ہے ہما را مقصد نر می سے ہے اور نر می سے اپنے مقا صد کی تبلیغ ہے ۔غلا م کووہی کر نا چا ہیئے جو اس کا آقا اس کو حکم کر ے ۔ جب خدا نے ہمیں نر می کی تعلیم دی ہے تو ہم کیو ں سختی کر یں ۔ ثوا ب تو فر ماں بر داری میں ہو تا ہے