بعد از بیعت حضر ت اقد س نے ان کو مخا طب کر کے فر ما یا کہ ۔ مسنُو ن طو ر سے خدا کا فضل تلا ش کر و۔ ہما ری طر ف سے تو آپ کو یہی نصیحت ہے کہ مسنو ن طو ر سے خدا تعا لیٰ کا فضل تلا ش کر و۔ اللہ تعا لیٰ نے قر آن شر یف اور رسو ل کر یم ﷺ کو مبعو ث کر کے یہ ا مر صا ف طو ر پر بیان کر دیا ہے۔ کہ انکی پیرو ی کے سو ا کو ئی راہ اس کی ر ضا جو ئی کی با قی نہیں ہے ۔جو خدا تعا لیٰ کے فضلو ں کا جو یاں ہو ا سی دروازہ کو کھٹکھٹا ئے۔ اس کے لیے کھو لا جا ئے گا ۔بجزاس دروازہ کے تما م دروازے بند ہیں ۔ نبو ت ہما رے نبی ﷺ پر ختم ہو چکی۔ شر یعت قر آن شر یف کے بعد ہر گز نہیں آئے گی ۔ انسا ن کو کشو ف اور وحی اور الہا م کا بھی طا لب نہ ہو نا چا ہیئے بلکہ یہ سب تقو ی کا نتیجہ ہیں ۔ جب جڑ ٹھیک ہو گی تو اس کے لو ازم بھی خو د بخدد آجا ئیں گے ۔ دیکھو جب سو ر ج نکلتا ہے تو دھو پ اور گر می جو اس کا خا صہ ہیں ۔ خو د بخود ہی آجا تے ہیں ۔ اسی طر ح جب انسا ن میں تقو ی آجا تا ہے تو اس کے لوازم بھی اس میں ضر ور آجا تے ہیں ۔ دیکھو جب کو ئی دو ست کسی کے ملنے کے واسطے جا و ے تو اس کو یہ امید تو نہ ر کھنی چا ہیئے ۔کہ میں اس کے پا س جا تا ہو ں کہ وہ مجھے پلا و ،زردے اور قو ر مے اور قلیئے کھلا ئے گا اور میری خا طر تو اضع کر یگا نہیں بلکہ صا د ق دوست کی ملا قا ت کی خو ا ہش ہو تی ہے بجز اس کے اور کسی کھا نے یا مکا ن یا خد مت کی پر وا اور خیا ل بھی نہیں ہو تا مگر جب وہ اپنے صا دق دوست کے پا س جو اس سے مہجو ر تھا ۔ جا تا ہے تو کیا وہ اس کی خا طر داری کا کو ئی دقیقہ با قی بھی اٹھا رکھتا ہے ؟ نہیں ہر گز نہیں بلکہ اس سے بن پڑ تا ہے وہ اپنی طا قت سے بڑ ھ کر بھی اس کی توا ضع کے واسطے مکلف سا ما ن کر تا ہے غر ض یہی حا ل رو حانیت اور اس دوست اعلیٰ کی ملا قا ت کا ہے ۔ الہا ما ت یا کشو ف وغیر ہ خبر و ں کے سہا ر ے وا لا ایما ن ، ایما ن کا مل نہیں ۔ وہ کمزور ا یما ن ہے جو کسی چیز کا سہا را ڈ ھو نڈھتا ہے ۔ انسا ن کی غر ض اور اصل مد را صر ف اضا ء الہیٰ اور وصول الی اللہ چا ہیئے۔ آگے جب یہ اس کی رضا حا صل کر لے گا تو خد ا تعا لی اس کو کیا کچھ نہ دیگا ۔ خودا س امر کی درخو است کر نا سو ء ادب ہے ۔ دیکھو اللہ تعا لیٰ قر آن شر یف میں فر ما یا ہے قل ان کنتم تحبو ن اللہ فا تبعو نی یحببکم اللہ (آل عمران:۳۲) خدا کے محبو ب بننے کیو اسطے رسو ل اللہ ﷺ کی پر و ی ہی ایک راہ ہے اور کو ئی دو سر ی راہ نہیں کہ تم کو خدا سے ملا دے ۔ انسا ن کا مد عا صر ف اس ایک وا حد لا شر یک خدا کی تلا ش ہو نا چا ہیئے شر ک اور بد عت سے اجتنا ب کر نا چا ہیئے رسو م کا تا بع اور ہو ا وہو س کا میطع نہ بننا چا ہیئے ۔ دیکھو میں پھر کہتا ہو ں کہ رسو ل اللہ ﷺ کی سچی راہ کے سوا اور کسی طر ح انسا ن کا میا ب نہیں ہو سکتا ۔