قائم ہوں ن کو چھوڑ دیا گیا ہے ۔ باہر سے وہ ایک پھوڑے کی طرح نظر آتے ہیں جو چمکتا ہے مگر اس کے اندر پیپ ہے یا قبر کی طرح ہے کہ جس کے اندر بجز ہڈیوں کے اور کچھ نہیں۔
ایسا ہی حال اخلاقی حالتوں کا ہے ۔ غیظ غضب میں آکر گندی گالیاں دینے لگتا ہے اور اعتدال گذر جاتا ہے ۔
نفس مطمئنہ کی حا لت والا ہی بڑ ا سعید اور با مر دا ہے
اصل مد عا تو یہ ہو نا چا ہیئے کہ انسا ن نفس مطمئنہ حا صل کر ے نفس کی تین قسمیں ہیں ۔ اما رہ ۔لو امہ ۔ مطمئنہ ۔بہت بڑا حصہ د نیا کا نفس اما رہ کے نیچے ہے ۔ اور بعض جن پر خدا کا فضل ہو ا ہے وہ لو امہ کے نیچے ہیں یہ لو گ بھی سعا دت سے رکھتے ہیں ۔ بڑا بد بخت وہ ہے جو بد ی کو محسوس ہی نہیں کر تا یعنی جو اما رہ کے ماتحت ہیں اور بڑاہی سعید اور با مر ادوہ ہے جو نفس مطمئنہ کی حا لت میں ہے ۔
نفس مطمئنہ ہی خدا تعا لیٰ نے فر ما یا ۔
یا یتھا النفس المطمئنت ار جعی الیٰ ر بک ر ا ضیت مر ضیت (الفجر :۲۹ ، ۲۷)
یعنی اے وہ نفس جو اطمینا ن یا فتہ ہے۔ اس حا لت میں شیطا ن کے سا تھ جوجنگ ہو تی ہے اس کا خا تمہ ہو جا تا ہے۔ اور خطا ب کے لا ئق تو مطمئنہ ہی ٹھہر ا یا ہے۔ اور اس آیت سے یہی معلو م ہو تا کہ مطمئنہ کی حا لت میں مکا لمہ الیٰ کے لا ئق ہو جا تا ہے ۔خدا کی طر ف واپس آ کے معنے یہی نہیں کہ مَر جا۔ بلکہ اما رہ اور لو امہ کی حا لت میں جو خد ا تعا لیٰ سے ایک بُعد ہو تا ہے مطمئنہ کی حا لت میں وہ مہجو ی نہیں ر ہتی اور کو ئی غبا ر با قی نہ رہ کر غیب کی آو از اس کو بلا تی ہے تو مجھ سے را ضی اور میں تجھ سے را ضی یہ ر ضا کا ا نتہا ئی مقا م ہو تا ہے ۔ پھرخدا تعا لیٰ فر ما تا ہے کہ اب میر ے بند و ں میں دا خل ہو جا ۔خد ا تعا لیٰ کے بند ے دنیاہی ہو تے ہیں مگر دنیا ان کو نہی پہچانتی ۔د نیا آسمانی بند وں سے دوستی نہیں کی وہ ان سے ہنسی کر تی ہے ۔ وہ الگ ہی ہو تے ہیں اور خد ا تعا لیٰ کی رِداء کے نیچے ہو تے ہیں۔ غر ض جب ایسی حا لت اطمینا ن میں پہنچتا ہے تو الہٰی اکسیر سے تا نباسونا ہو جا تا ہے ۔
و اد خلی جنتی
اور تو میر ے بہشت میں دا خل ہو جا ۔ بہشت ایک ہی چیز نہیں
و لمن خا ف مقا م ربہ جنتا ن ۔ (الر حما ن :۴۷)
خد ا سے ڈر نے والے کے لیے دو بہشت ہیں۔( الحکم جلد نمبر ۸ صفحہ ۳ مو ر خہ ۲۸ فر ور ی ۱۹۰۳ئ)
۱۵ فر ور ی ۱۹۰۳ ئ۔
(قبل ازظہر)
ایک صا حب گو ڑ گا وں سے تشر یف لا ئے ہو ئے تھے ۔ حضر ت اقد س سے شر ف بیعت حا صل کیا