کچھ جواب بھی نہیںدے سکتا ۔ چال چلن کاوہ حال کہ اُستاد بھی عاق کر دیتا ہے اور یہودیوںکے اِلزامات کئی پشت تک اوپر ہوتے ہیںاور کوئی جواب نہیںدیاجاتا ۔٭
۲۶دسمبر ۱۹۰۱
مسیح کے حالات ازروئے بائبل
اور پھر مسیح کے حالات پڑھو توصاف معلوم ہوگا کہ یہ شخص کبھی بھی اس قابل نہیںہو سکتاکہ نبی بھی ہو ۔ چہ جائے کے خدایا خداکابیٹا ہے ۔ تدبیر عالم اورجزا سزا کے لیے عالم الغیب ہونا ضروری ہواور یہ خداکی عظیم الشان صفت ہے، مگر میںابھی دکھاآیاہو ںاُسے قیامت تک کاعلم نہیںاور اتنی بھی اسے خبر نہ تھی بے موسم انجیر کے درخت کے پاس شدّت بھوک سے بے قرار ہو کر پھل کھانے کو جاتاہے اور درخت کو جسے بذات خودکوئی اختیار نہیں ہے ۔ کے بغیر موسم کے پھل دے سکے ، بد دُعا دیتا ہے اوّل تو خداکو بھوک لگنا ہی تعجب خیز امرہے اور یہ خوبی صرف انجیل ؔ خداہی کوحاصل ہے کہ بھوک سے بے قرار ہوتا ہے پھر اس پر لطیفہ یہ بھی ہے ۔ آپ کو اتنا علم بھی نہیں ہے کے اس درخت کو پھل ہی نہیںہے اورپھر اگر یہ علم نہ تھا توکاش کوئی خدائی کرشمہ ہی وہاںدکھاتے اور پھر بے بہارے پھل اس درخت کو لگادیتے ۔ تادُنیاکے لیے ایک نشان ہوجاتا ، مگر اس کی بجائے بد دُعادیتے ہیں ۔ اب ان باتوںکے ہوتے یسوع کو خدابنایاجاتاہے ؟ میںآپ کو سچّی خیر خواہی سے کہتاہوں کہ تکلف سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ایک شخص ایک ہی وقت میںاپنی دو حیثیتںبتاتاہے ۔باپ بھی اور بیٹابھی ۔خدابھی اور انسان بھی ۔کیاایساشخص دھوکا نہیںدیتا ہے ۔
انجیل کے جن مقامات کا آپ ذکر کرتے ہیں وہاں سیاق وسباق پر نظر کرنے سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ وہ اسکی خدائی کے ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں ،کیونکہ وہ اس کی انسانیت ہی کو ثابت کرتے ہیںاور انسانیت کے لحاظ سے بھی اسے عظیم الشان انسانوں کی فہرست میں داخل نہیں کرت جب اسے نیک کہا گیا تو اس نے انکار کیا اگر اس کی روح میں بقول عیسائیاں کامل ِتطہّر اور پاکیزگی تھی ۔پھر وہ یہ بات کیوں کہتا ہے کہ مجھے نیک نہ کہو ۔علاوہ بریں یسُوع کی زندگی پر بہت سے اعتراض اور الزام لگائے گئے ہیں اور جس کا کوئی تسلّی بخش آج تک ہماری نظر سے نہیں گزرا ۔
ایک یہودی نے یسُوع کی سوانحعمری لکھی ہے اور وہ یہاں موجود ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ یسُوع ایک لڑکی