جماعت کے لحاظ سے بھی گر دیکھا جاوے تو مسیح ناکام اُٹھا ۔ حواریوںنے سامنے قسمیں کھائیںاور لعنت کی ۔ ادھر یہ حال ہے کہ ہمارے ایک مخلص دوست عبدالرحمان نام کاجو نواح کابل میں رہتا تھا محض ہماری وجہ سے ایک سال قید رکھاگیا کہ وہ توبہ کرے ۔ مگر اُس نے موت کو انکا ر پر ترجیح دی ۔ آخر کہتے ہیں کہ اُسے گلاگھونٹ کر مار دیاگیا اور جیسااس نے کہا تھا مرنے کے بعد ایک نشان اس کاظاہر ہو ا۔مجھے افسوس ہے عیسائی اپنے ایمان کی متاع پولوس کی باتوں پر ہر دیتے ہیں ۔علاوہ برآں انجیل ؔ کا ایک بہت بڑاحصہ بھی یہی تعلیم دیتاہے کے خدا ایک ہے مثلاً جب مسیح کو یہودیوںنے اس کے اُس کفر کے بدلے میں یہ ابن اللہ ہونے کا دعویٰ کرتاہے ۔ پتھراؤ کرناچاہا، تو اس نے صاف کہا کہ کیا تمھاری شریعت میںیہ نہیں کے تم خدا ہو ۔ اب ایک دانشمند خوب سوچ سکتا ہے کہ اس الزام کے وقت توچائیے تھا ۔مسیح اپنی برتیت کرتے اور اپنی خدائی کے نشان دکھا کر ملزم کرتے اور اس حالت میں کے ان پر کفر کا الزام لگایاگیاتھا ۔ توان کافرض ہوناچاہئیے ۔ تھاکے وہ فی الحقیقت خُدایاخُداکے بیٹے ہی تھے تو یہ جواب دیتے کے یہ کفر نہیںہے بلکہ میںواقعی طور پر خداکا بیٹاہوں اور میرے پاس اس کے ثبوت کے لیے تمھاری ہی کتابوں میںفُلاں فُلاںموقع پر صاف لکھاہے کہ میںقادرِمطلق عالم الغیب خداہو ںاور لاؤ میںدکھادوں اور پھر اپنی قدرتوںاور طاقتوں سے ان کو نشانات ِخدائی بھی دکھادئیے اوروہ کام جو انھوںنے خدائی کے پہلے دکھائے تھے ان کی فہرست الگ دیدئیے ۔ پھر ایسے بیّن ثبوت کے بعد کسی یہودی فقیہہ یاایسی فریسی کی طاقت تھی کے انکار کرتا ۔ وہ توایسے خداکو دیکھ کر سجدہ کرتے ہیں۔ مگر بر خلاف اس کے آپ نے کیا تو یہ کیاکہہ دیا کہ تمھیں خدالکھا ۔ اب خداترس دل لے کر غور کرو کہ یہ اپنی خدائی کاثبوت دیایا ابطال کیا غرض یہ باتیں ایسی ہیںکے ان کوبیان کرنے سے بھی شرم آتی ہے ۔میںاس کو آپ ہی کے انصاف پر چھوڑتاہوں۔توراتؔ ،اسلامؔ,قانون قدرت ۔باطنی شریعت توحید کی شہادت دیتے ہیںاور عیسائی یسوع کی خدائی کے یہ دلائل دیتاہے کہ کتب ِسابقہ میںاس کی بشارتیں ہیں( جن کو یہودیوںنے کبھی تسلیم نہیںکیاکہ وہ خود خدایا اس کے بیٹے کے لیے ہیںبلکہ وہ مسیح کے آنے سے پہلے ہی پوری ہوچکی ہیں) اور پر انجیل ؔ کے بعض اقوال بتاتے ہیں کے اس کایہ حال ہے کہ اصل کاپتہ ہی نہیں ، کیونکہ اصل زبان مسیح کی عبرانی تھی اور خود مسیح اپنی الگ انجیل کا ذکر کرتے ہیں ۔ پھر مسیح نے کہیں اپنی خدائی کا دعوی ٰنہیںکیا یہودیو ںکے پتھراؤکرنے پر اور اس کے کفر کے الزام پر ان کا قومی اور کتابی محاورہ پیش کر کے نجات پائی ۔ اپنی خدائی کا کوئی ثبوت نہ دیا ۔ اور اپنے سے کبھی فوق العادت کام کو نہ دکھایا۔ معجزات کا وہ حال پیشگوئیوں کی وہ حالت ، علم کی یہ صورت کہ اتنا پتہ نہیں کہ انجیر کے درخت کو اس وقت پھل نہیںہوگا ، اختیار کایہ حال کہ اسے لگا نہیںسکا ۔ ساعت کاعلم دے سکتا، ضعف وتوانائی اتنی کہ طمانچے اور کوڑے کھاتاہو اصلیب پر چڑھتاہے یہودی کہتے ہیںکہ خداکابیٹاہے تو اترآ۔ اُترناتودرکنار انکو