پرعاشق ہو گیا تھااور اپنے استاد کے سامنے اس کے حسن وجمال کا تذکرہ کر بیٹھا تواستاد نے اُسے عاق کر دیا اور انجیل کے مطالعہ سے جو کچھ مسیح کی حالت کاپتہ لگتا ہے وہ آپ سے بھی پوشیدہ نہیںہے کے کس طرح پردہ نا محرم نوجوا ن عورتوں سے ملتا تھااور کس طرح پر ایک بازاری عورت سے عطر ملواتا تھااور یسوع کی بعض نانیوں اور دادیوں کی جو حالت بائبل سے ثابت ہوتی ہے وہ بھی کسی سے مخفی نہیں ۔ ان میں سے تین مشہور ومعروف ہیں ان کے نام یہ ہیں بنت سبع، ؔ راحاب ؔ ،تمر،ؔ اور پھر یہودیوںنے اس کی ماںپر جو الزام لگائے ہیں وہ بھی ان کتابو ںمیں درج ہیں۔ ان سب کو اکٹھاکر کے دیکھیں تو اس کا یہ قول کے مجھے نیکنہ کہو اپنے اندر حقیقت رکھتاہے اور فروتنی یا نکسار کے طور پر ہر گزنہ تھا جیسابعض عیسائی کہتے ہیںاب میں پوچھتاہوںکہ جس شخص کے اپنے ذاتی چال چلن کا یہ حال ہواور حسب نسب کایہ توکیا خداایساہی ہواکرتاہے یہ با تیں اللہ تعا لیٰ کے تقد س کے صر یح خلا ف ہیں خدا اپنی قد رت سے کبھی الگ نہیں ہوا ۔ اور یسو ع کی نسبت صا ف معلو م ہے کہ پورا ناتواں اور بے علم تھا۔ پھر یسو ع کی راست بازی میں کلام ہے پہلے کہا کہ میںداؤدکا تخت قائم کر نے کے وا سطے آیا ہو ں اور حوار یوںکو کپڑے بیچ کرتلوا ریں خر ید نے کی بھی تعلیم دی ، لیکن جب دا ل گلتی نظرنہ آئی تو اسکو یہ کہ کر ٹا ل دیا کہ آسما نی با دشا ہت ہے کیا داؤد کا تخت آسما نی تھا ۔اصل یہ ہے کہ ابتداء میںاسے خیا ل نہ تھا کہ کو ئی مخبر ی کی جاوے گی،لیکن آخر جب مخبری ہوئی اور عدالتو ں میںطلبی ہوئی،آنکھ کھلی اورآسمانی سلطنت پراسے ٹا لا ۔ بھلااس قسم ضعفاور ب علمی اور ایسے چال چلن کے ہوتے ہوئے کہیںخدابننا ،کہیں بیٹا کہلانا اور انسا ن ہونا یہ سا ری باتیں ایک ہی و قت میں جمع ہو جائیں کس قدر حیرت کو بڑحا نے والی ہیں ۔ پولو س کا کردار با قی رہاپولو س کا اجتہاد یااُس کے اقوال۔ ٔن لوگوں نے پولوس کے چال چلن پر غور کی ہے اور جیسا کہ اس کے بعض خطوس کے فقرات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وُہ ہر مذہب والے کہ رنگ میں ہو جاتا تھا۔تمہیں خوب معلوم ہے اور اس کے حالات میں آزاد خیال لوگوں نے لکھا ہے کہ اچھے چال چلن کا آدمی نہ تھا۔ بعض تاریخوں سے پایا جاتا ہے کہ وہ ایک کاہن کی لڑکی پر عاشق تھا اور ابتدا میں اُس نے بڑے بڑے دُکھ عیسائیوں کو دیئے اور بعد میں جب کوئی راہ اُسے نہ ملی اور اپنے مقصد میں کامیابی کا کوئی ذریعہ اُسے نظر نہ آیا تو اس نے ایک خواب بنا کر اپنے آپ کو حواریوں کا جمعدار بنالیا۔ خود عیسائیوں کو اِس کا اعتراف ہے کہ وہ بڑا سنگدل اور خراب آدمی تھا اور یُونانی بھی پڑھا ہوا تھا۔ میں نے ٔہانتک غور کی ہے مجھے یہی معلوم ہوا ہے کہ وس ساری خرابی اس لڑکی ہے کے معاملہ کی تھی اور ایسائی مذہب کے ساتھ اپنی دشمنی کامِل کرنے کے لیے اس نے یہ طریق آخری سو چاکہ اپنا اعتبار جمانے کے لیے ایک خواب سُنادی اوار عیسائی ہو گیا اور پھر یُسوع کی تعلیم کو اپنے طرز پر ایک نئی تعلیم کے