ہے ۔یہ داغ اٹھ نہیں سکتا ۔ میں بار بار آپ کو اس امر کی طرف توجّہ دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو دیکھو ۔رہاپو لوسؔجس کی باتوں سے خدائی نکا لی جاتی ہے۔وہ اپنے چال چلن کے لحاظ سے بجائے خود غیر معتبراور اس کے لیے مسیح کی کوئی پیش گوئی نہیں۔پھرآپ ہی بتائیں کہ ایک دانشمند اسے خدا کس طرح مان کہ ایسے خدا کی کوئی پرستش کر سکتا ہے ۔ہر گز نہیں ۔ مسیح کی زندگی اس کی پوری ناکا می اور نا مرادی کی تصویر ہے۔ آج وہ زندہ ہو تے تو ان کو وہ نشانات دیکھ کر جو اس مسیح کے ہاتھ پر صادر ہو رہے ہیں شرمندہ ہونا پڑتا ۔کیا یہی قبولیت دعا ہوتی ہے کہ ساری رات چلّاتا رہا اور کسی نے بھی نہ سنا اور آخری ساعت میں خدا کا شکوہ کرتا ہوا رخصت کہ اِیلی اِیلی لِمَاسَبَقْتَنِیْ۔ خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجااورتائیدی نشانات دکھائے اسوقت جو خد انے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے کے اورجو نشانات میری تائیدیںمیںظاہر ہوتے ہیں ان کی نظیر تو پیش کرو ۔ مثلاًڈگلس کا مقدمہ جو دیندار پادریوں کی کوشس اور ایک گال پر طمانچہ کھا کر دُوسری پھیر دینے کی تعلیم دینے والوںکی طرف سے کیا گیا ۔کئی سو آدمی اس بات کے گواہ موجود ہیں کہ کس طرح پر قبل ازوقت کل واقعات سے اطلاع دی گئی اورخدانے کسطرح ہر قسم کی ذلت سے محفوظ رکھا ۔ پہلے امرت سَر میں جب یہ مقدمہ دائر کیاگیا ۔ تو ڈپٹی کمشنر نے چالیس ہزار کی ضمانت کے ساتھ وارنٹ جاری کر دیا ۔ مگر خداکی قدرت دیکھو کہ وہ اسے جاری نہ کر سکا۔ وہ اس کی کتاب میںرہ گیا ۔ پیحھے جب اُسے یہ معلوم کرایا گیا کہ ایسے وارنٹ کااجرانا جائز ہے تو اس نے گو رداسپور تار دی کہ وارنٹ روکا جاوے ، مگر وہاںپہنچا ہی نہ تھا ۔ آخر یہ مقدمہ چلا ۔ عیسائیوںنے ہر طرح سے میرے سزادلانے میںسعی کی ۔ مگر خدا نے اپنی قدرت کانشان دکھایا ۔ اور میری اہانت چاہنے والوںکی اہانت کی ۔ڈگلس صاحب نے نہایت ہی عزّت واحترام سے مجھے بُلایا اور کرسی دی حالانکہ مجھے ان باتوں کی ذرہ ھی پروانہیں ۔ آریہ اور بعض مسلمان بھی ان کے شریک تھے ۔ پنڈت رام بھجدت پلیڈجو آریہ ہے وہ بلا فیس آتاتھااور اس نے مجھے خود کہا کہ وہ اس لیے شریک ہواہے کہ لیکھرام کے قاتل کا پتہ چل جاوے ۔ محمد حسین گواہ ہو کر آیا اور کرسی مانگ کر بہت ذلیل ہو ا۔ آخر جب ساری کاروائی ہو چکی اور عبدالحمید نے صاف اقرار کر لیا کہ مجھے قتل کے لیے بھیجا ہے ۔ پوری مسل مرتب ہوجانے پر خدا نے اپنی قدرت کی چمکار دکھائی اور ڈگلس کے دل میںڈال میںدیا کہ یہ سب جھوٹ ہے ۔اُس نے کپتان لیمارچنڈکو کہا کہ میرا دل اطمینا ن نہیں پاتا پھر عبدالحمیدسے دریافت کرو ۔ آخر عبدالحمید نے اصل رازبتادیا کہ مجھے سکھایاگیا تھا ۔ پھر ڈپٹی کمشنر کو تا ر دیا گیا اور نتیجہ وہی ہوا جس کی خبر مقدمہ کے نشان سے پہلے تمام شہروںمیںشائع ہوچکی تھی ۔ ایسا ہی لیکھرام کا نشان اور صدہانشان ہیں ۔