نے ایک محقق اور چشم دید حالات لکھنے والے کی حیثیت سے نہیں لکھے۔ تب بھی ان معجزات میں کوئی رونق اور قوت نہیںپائی جاتی جبکہ ایک تالاب ہی کا قِصّہ مسیح کے سارے معجزات کی رونق کو دُور کر دیتا ہے اور مقابلتاً جب ہم انبیاء سابقین کے معجزات کو دیکھتے ہیں، تو وہ کسی حالت میں مسیح کے معجزات سے کم نہیں بلکہ بڑھ کر ہیں۔ کیونکہ بائبل کے مطالعہ کرنے والے خُوب جانتے ہیں کے پہلے نبیوں سے مُردوں کا زندہ ہوتا ثابت ہے، بلکہ بعض کی ہڈّیوں سے مُردوں کا لگ کر بھی زندہ ہونا ثابت ہے؛ حالانکہ مسیح کے خیالی معجزات میں ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہے۔ مسیح کی لاش نے کوئی مُردہ زندہ نہیں کیا پھر بتاؤ کہ مسیح کو کون سی چیز خدا بنا سکتی ہے؟کیا پیشگو ئیاں؟ ان کی حقیقت میںنے پہلے بتادی ہے کہ مسیح کی پیشگوئیاں پیشگوئی کا رنگ ہی نہیںرکھتی ہیںجو باتیں پیشگوئی کے رنگ میںمندرجہ ہیںوہ ایسی ہیںکہ ایک معمولی آدمی بھی اُن سے بہتر باتیںکہ سکتا ہے اور قیافہ شناس مدبر ؔ کی پیشگوئیاں اُن سے بدرجہابڑھی ہوئی ہوتی ہیں میںعلی الاعلان کہتاہوں کہ اگر اس وقت مسیح ہوتے ، تو جس قدر عظیم الشان تائید ی نشان پیشگوئی کہ رنگ میںخدامیرے ہاتھ پر صادرکھیے ہیں ۔ وہ ان کو دیکھ کر شرمندہہوجاتے ہیں اور اپنی پیشگو ئیوں کا کہ زلزلے آئیںگے ۔ مری قحط پڑیںگے یامُرغ بانگ دیگا کبھی مارے ندامت کے نام نہ لیتے ۔
پھر آپ ہی ہمیںبتائیںکہ کس طرح پر ہم مسیح کو مانیں کہ وہ خدا تھا ۔ خدائی کا دعویٰ ان میںنہیں ۔ صحف سابقہ کی پیشگوئیوں کے اپنے متعلق ہونے کا انھوں نے کوئی دعویٰ نہیں کیا اور نہ اپنے متعلق ہونے کا کوئی ثبوت دیا۔ پھر سلب صفات ِخدائی کو ہم ان میںدیکھتے ہیں ۔قیامت کے بابت انہیں اقرار ہے کہ مجھے اس کاعلم نہیں ،باپ اوت بیٹے کے باوجود متحدنی الوجود ہونے کے ایک کا عالم دوسرے کاجاہل ہونا قابلِ لحاظ ہے ۔تقدّس کا یہ حال ہے کہ خود کہتا ہے کہ مجھے نیک نہ کہو ۔صرف باپ ہی کو نیک ٹھہراتا ہے۔ پھر یہ اختلاف بھی باپ بیٹے کی عینیّت کے خلاف ہے ۔صرف ابن کا لفظ ان کی خدائی کو ثابت نہیں کر سکتا ۔کیونکہ حقیقت اور مجازمیں باہم تفریق کرنے کے ہم مجاز نہیں ہو سکتے ۔کہ کہدیں کہ یہاں تو حقیقت مراد ہے اور فلاں جگہ مجاز ہے۔یہی لفظ یا اس سے بھی بڑھ کر جب دوسرے انبیاء اور راست بازوں اور قاضیوں پر بو لا جاوے ،تو وہ نرے آدمی ہیں اور مسیح پر بولا جاوے ،توہ خود خدا اور ابن بن جاویں ۔یہ تو انصاف اور راستی کے خلاف ہے ۔اور پھر گویا نئی شریعت اور نئی کتاب بناتا ہے۔اس سے کوئی فائدہ نہیں۔
پادریوںنے خیالی اورفرضی طور پر مسیح کی خدائی کے ثبوت کے لیے بڑے ہاتھ پائوںمارے ہیں , مگر آجتک ایک بھی رسالہ یا تحریر ان کی میری نظر سے نہیں گزری اور کوئی پادری میں نے نہیں دیکھا ۔جس نے مسیح کے معجزات کے چہرہ سے تالاب کے قصّہ کے داغ کو دور کیا ہو اور جب تک انجیل میں یہ قصّہ درج