کر دیا اور ان کے افعال اور اقوال جو انجیل میں درج ہیں وہ بھی اسی کے مویّد ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ خدا کے لیے تو یہ ضرور ہے کہ اُس کے افعال اور اقوال میں تناقض نہ ہو؛ حالانکہ انجیل میں صریح تناقض ہے۔ مثلاً مسیح کہتا ہے کہ باپ کے سوا کسی کو قیامت کا عِلم نہیں ہے۔ اب یہ کیسی تعجّب خیز بات ہے کہ اگر باپ اور بیٹے کی عینیّت ایک ہی ہے تو کیا مسیح کا یہ قول اس کا مصداق نہیں کہ دروغ گوارا حافظہ نباشد، کیونکہ ایک مقام پر تو دعویٰ خدائی اور دوسرے مقام پر الوہیّت کے صفات کا انکار اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ انجیل میں مسیح پر بیٹے کا لفظ آیا ہے۔ اس کے جواب میں ہمیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ انجیل محّرف یا مبدّل ہے۔ بائبل کے پڑھنے والوں سے یہ ہر گز مخفی نہیں ہے کہ اس میں بیٹے کا لفظ کس قدر عام ہے۔ اسرائیل کی نسبت لکھّا ہے کہ اسرائیل فرزندِ من است بلکہ نخست زادۂ من است اب اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا۔ اور خدا کی بیٹیاں بھی بائبل سے تو ثابت ہوتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا کا اطلاق بھی ہوا ہے کہ تم خدا ہو۔ اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو گا۔ اب ہر ایک مُنصف مزاج دانشمند غور کرسکتا ہے کہ اگر اِبن کا لفظ عام نہ ہوتا، تو تعجّب کا مقام ہوتا ۔ لیکن جنکہ یہ لفظ عام ہے اور آدمؑ کو بھی شجرۂ ابناء میں داخل کیاگیا ہے اور اسرائیل کو نخست زادہ بتایا گیا ہے اور کثرتِ استعمال نے ظاہر کر دیا ہے کہ مقدسوں اور راستبازوں پر یہ لفظ حُسنِ ظن کی بناء پر بولا جاتا ہے۔ اب جبتک مسیح پر اس لفظ کے اطلاق کی خصُوصیّت نہ بتائی جاوے کہ کیوں اس انبیّت میں وہ سارے راستبازوں کے ساتھ شامل نہ کیا جاوے اس وقت تک یہ لفظ کچھ بھی مفید اور مؤثر نہیں ہو سکتا، کیونکہ جب یہ لفظ عام اور قومی محاورہ ہے تو مسیح پر اُن سے کوئی نرالے معنے پیدا نہیں کرسکتا۔میں اس لفظ کو مسیحؑ کی خدائی یا انبیّت یا الُوہیت کی دلیل مان لیتا، اگر یہ کسی اور کے حق میں نہ آیا ہوتا۔
میں سچ سچ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کے خوف سے کہتا ہوں کہ ایک پاک دل رکھنے والے اور سچّے کانشنس والے کے لیے اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں ہوسکتی اور ان الفاظ کی کچھ بھی وقعت نہیں ہوسکتی، جبتک یہ ثابت کرکے نہ دکھایا جاوے کہ کسی اور شخص پر یہ لفظ کبھی نہیں آئے اور یا آئے تو ہیں مگر مسیح ان وجُوہاتِ قویّہ کی بنا پر اَوروں سے ممتاز اور خصُوصیّت رکھتا ہے۔ یہ تو دورنگی ہے کہ مسیح کے لیے یہی لفظ آئے تو وہ خدا بنایا جاوے اور دوسروں پر اطلاق ہوتو وہ بندے کے بندے۔
اگر یہ اعتقاد کیا جاوے کہ خُدا خود ہی آکر دُنیا کو نجات دیا کرتا ہے یا اس کے بیٹے ہی آتے ہیں، تو پھر دَور لازم آئے گا۔ اور ہر زمانہ میں نیا خدا یا اس کے بیٹوں کا آنا ماننا پڑے گا۔ جوصریح خلاف بات ہے۔ان ساری باتوں کے علاوہ ایک اور بات قابلِ غور ہے کہ وہ کیا نشانات تھے جن سے حقیقتاً مسیحؑ کی خدائی ثابت ہوتی ۔کیا معجزات؟اوّل تو سِرے سے ان معجزات کا کوئی ثبوت ہی نہیں کیونکہ انجیل نویسوں کی نبوّت ہی کا کوئی ثبوت نہیں۔ اگر ہم اس سوال کو درمیان میں نہ بھی لائیں اور اس بات کا لحاظ نہ کریں کہ اُنہوں