میری مُراداس کے بیان کرنے سے صرف یہ ہے تاویلات رکیکہ اور ظنیّ باتیں توایک باطل پرست بھی پیش کرتاہے ۔ مگر کیا ہمارا یہ فرض نہیںہوناچاہئیے کہ ہم اس پر پورا غور کریںیونیٹرین لوگو ں نے تثلیث پرستوں کے بیانات ان پیشگوئیوں کے متعلق سُن کر کہاہے کے یہ قابل شرم باتیںہیں جو پیش کرنے کے قابل نہیںہیں ۔ اور تثلیث اوراُلوہیّت مسیح کاثبو ت اسی قسم ہو سکتا ہے تو پھر با ئبل سے کیا ثا بت نہیں ہو سکتا۔ لیکن ایک محقق کے لیے غور طلب بات یہ ہے کہ وہ ان کو پڑھ کر ایک تنقیح طلب قرار دے اور پھر اندرونی اور بیرونی نگاہ سے اس کو سوچے۔ اب ان پیسگوئیوں کے متعلق جھانتک میں کہہ سکتا ہوں یہ امر قابل غور ہیں۔ اوّلؔ۔ کیا ان پیشگوئیوں کی بابت یہودیوں نے بھی (جن کی کتابوں میں یہ درج ہیں) یہی سمجھا ہوا تھا کہ ان سے تثلیث پائی جاتی ہے یا مسیح کا خدا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ دومؔ۔کیا مسیح نے خود بھی تسلیم کیا کہ یس پیشگوئیاں میرے ہی لیے ہیں اور پھر اپنے آپ کو اُن کا مصداق قرار دے کر مصداق ہوتے کا عملی ثبوت کیا دیا؟اب اگر چہ یہ ایک لمبی بحث بھی ہو سکتی ہے کہ کیا درحقیقت وہ پیشگوئیاں اصل کتاب میں اسی طرح درج ہیں یا نہیں، مگر اس کی کچھ چنداں ضرورت نہ سمجھ کر ان دو تنقیح طلب اُمور پر نظر کرتے ہیں۔ یہودیوں نے جو اصل وارثِ کتابِ توریت ہیں اور جن کی بابت خود مسیح نے کہا ہے کہ وہ موسیٰؑ کی گدّی پر بیٹھے ہیں۔ کبھی بھی ان پیشگوئیوں کے یہ معنے نہیں کئے جو آپ یا دُوسرے عیسائی کرتے ہیں اور وہ کبھی بھی مسیح کی بابت یہ خیال رکھ کر کہ وہ تثلیث کا ایک جُزو ہے منتظر نہیں؛ چنانچہ میں نے اس سے پہلے بہت واضح طور پر اس کے متعلق سُنایا ہے اور عیسائی لوگ محض زبردستی کی راہ سے ان پیشگوئیوں کو حضرت مسیح پر جماتے ہیں جو کسی طرح بھی نہیں جمتی ہیں ب ورنا علما ء یہودکی کوئی شہادت پیش کرنی چاہیے کہ کیا وہ اس سے یہی مراد لیتے ہیں جو تم لیتے ہو۔ پھر انجیل کو پڑھ کر دیکھ لو (وہ کوئی بہت بڑی کتاب نہیں) اُس میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوا کہ حضرت مسیح نے ان پیشگوئیوں کو پورا نقل کرکے کہا ہو کہ اس پیشگوئی کے رُو سے میں خدا ہوں اور یہ میری اُلوہیّت کے دلائل ہیں،کیونکہ نِرا دعویٰ تو کسی دانشمند کے نزدیک بھی قابلِ سماعت نہیں ہے اور یہ بجائے خود ایک دعویٰ ہے کہ ان پیشگوئیوں میں مسیح کو خدا بنایا گیا ہے۔ مسیح نے خود کبھی دعویٰ نہیں کیا تو کِسی دُوسرے کا خواہ مخواہ اُن کو خدا بنانا عجیب بات ہے۔ اور پھر اگر بفرض محال کیا بھی ہو تو اس قدر تناقض اُن کے دعویٰ اور افعال میں پایا جاتا ہے کہ کوئی عقلمند اور خدا ترس اُن کو پڑھ کر انہیں خدا نہیں کہہ سکتا، بلکہ کوئی بڑا عظیم الشان انسان کہنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ انجیل کے اس دعویٰ کو رد کرنے کے لیے تو خود انجیل ہی کافی ہے، کیونکہ کہیں مسیح کا ادّعاثابت نہیں۔ بلکہ جہاں اُن کو موقع ملا تھا کہ وُہ اپنی خدائی منوالیتے وہاں اُنھوں نے ایسا جواب دیا کہ ان ساری پیشگوئیوں کے مصداق ہوتے سے گویا انکار