چوتھی مُلاقات
۲۶؍دسمبر ۱۹۰۱ء
آ ج احبا ب بہت کثر ت سے آ گئے تھے اور لا ہو ر ، وزیر آ باد ، راولپنڈی ،علا قہ کا بل ، جموں گو جرا نوالہ ، امر تسر ،کپور تھلہ ،لودھا نہ ، سا نبھر وغیرہ مقا ما ت سے اکثر دوست آچکے تھے ۔حضر ت اقد سؑ حسب معمو ل سیر کو نکلے اور خدّام کے زمر ہ میں یہ نو رخدا چلا ۔احبا ب کا پروا نوں کی طر ح ایک سودو سر ے پر گرنابھی بجا ئے خو د دیکھنے والے کے لیے ایک عجیب نظا رہ تھا ۔الغر ض مسٹرعبدالحق صا حب نے کل کے حضرت ا قد س کے ارشا د کے موا فق ایک مختصر سی تحر یر پڑھ کرسنا ئی جو انکے اپنے خیال میں تثلیث اور مسیح کی الوہیت کے دلائل پر مشتمل تھی ۔اس کو سن لینے کے بعدحضرت ا قد س نے اپنا سلسلہء کلا م یوںشروع فرما یا :۔
تثلیث والُوہیّت ِمسیح
اصل بات یہ ہے کے یہ بات ہر شخص کو معلوم ہے اور اس سے کوئی دانشمند انکار نہیںکر سکتا ہر آدمی جس غلطی میںمبتلاہے یاجس خیال میںگرفتا ر ہے وہ اس کے لیے اپنے پاس کوئی نہ کوئی وجوتِ رکیکہ ضرور رکھ تا ہے ،مگر دانشمند اور سلیم الفطرت انسانکا خاصہ ہے کہ وہ ان کی توزین کر کے اصل نتیجہ کو جو سچائی ہو تی ہے تلاش کرنے لگتا ہے ۔اب اسی اصول کے موافق عیسا ئیوں نے بھی اپنے اس عقیدہ تثلیث کے موافق کچھ باتیں بنا رکھی ہیں ۔جن کو وہ دلائل قرار دیتے ہیںاور سمجھتے ہیں۔مگر ابھی آپکو معلوم ہوجائے گا کہ یہ دلائل کیا وقعت رکھ سکتے ہیںاور ان میںکہاںتک قوت اور زور ہے ۔جس حال میںعیسائیوںمیںایسے فرقے بھی موجود ہیںجو مسیح کی اُلوہیتّ اور خدائی کے قائل نہیںاور نہ تثلیث ہی کو مانتے ہیں ۔جیسے مثلاََیُونی ٹیرین تو کیا وہ اپنے دلائل اور وجوہات انجیل سے بیان نہیں کرتے وہ بھی تو انجیل ہی پیش کرتے ہیں ۔اب اگر صراحتََا بلا تاویل انجیل میں مسیح کی الُوہیّت یا تثلیث کا بیان ہو تا تو کیا وجہ ہے کہ یُونی ٹیرین فرقہ اس سے انکار کرتا ہے؛حالانکہ وہ انجیل کو اسی طرحمانتا ہے جس طر ح دوسرے عیسائی۔
پیش گوئیاںتوریت کی پیش کی جاتی ہیں۔ انکے متعلق بھی ان لوگوں نے کلام کی ہے اور ایک یونی ٹیر ین کی بعض تحریریں میرے پاس ابتک موجودہیں۔ کیااُنھوںنے اُنکو نہیں پڑھا اور نہیں سمجھا قرآن شریف نے کیاخوب کہاہے ۔
کُلُّ حِزْبِِ بِماَلَدَیْمْفَرِحَوْنَ (الروم: ۳۳)۔