پیداکرتی ہے اور قے یادست کی صورت میںنکلتی ہے۔ اس طرح کوئی گندہ عقیدہ اندر رہ کر فسادکرنے سے نہیںرکتا ۔ اور اس کافسادیہی ہے کے انسان کے اخلاق چال چلن پر بُرااثر ہوجاتاہے اوروہ ایک مجذوم کی مانند بن جاتاہے ۔پس جوچیز آپ کے دل میںکھٹکے آپ اُسے پوچھیںاور تثلیث کے ردّمیں مختصر میںکہہ چکاہوں اوراب میںآپ سے اُس کے دلائل سُنناچاہتاہوں ، کیونکہ اُس کابار ِثبوت آپ پرہے جو اَسے مدارِنجات ٹھہراتے ہیں اور ایک گردہ کثیر سے اختلاف کرتے ہیں مثلاً ایک شخص ایک معمولی بات کے خلاف دُنیانے مانی ہے کے انسان آنکھ سے دیکھتاہے اورزبان سے چکھتاہے اور بولتاہے اور کانوںسے سُنتاہے یہ کہے کے انسان آنکھ سے بولتاہے اور کان سے دیکھتاہے توقانون کی رُو سے ثبوت اس کے ذمہ ّ ہے ۔
اس طرح پر تثلیث کاتوکوئی فائدہ نہیں ، یہودی جو ابراہیمی سلسلہ میں ہیں وہ اس سے انکار کرتے ہیںاور صاف کہتے ہیں کہ ہماری کتابوںمیںاس کاکوئی نام ونشان نہیںبر خلاف اس کی توحید کی تعلیم اور نہ آسمان پر نہ زمین پر نہ پانی پر میںغرض کہیںبھی دُوسراخداتجویز کرنے سے منع کیاگیاہے ۔
پھر میں نے قانون قدرت سے آپ کو ثابت کر دکھایاکہ توحیدہی سے ماننی چاہئیے ۔ پھر باطنی شریعت میں توحیدکے کے نقوش ہیں ۔ اب آپ جو نقل وعقل ، اور باطنی شریعت کے خلاف کہتے ہیں کہ خداایک نہیں بلکہ تین تویہ ثبوت آپ ہی کے ذمّہ ہے یہ مسئلہ ایساہے کہ ہمیںتو فقط اس کے سُننے ہی کاحق ہے ۔ کیونکہ نبیوںاور راستبازوںکی تعلیم کے صریح خلاف ہے ۔
میںخداکوحاضر ناظر جان کر کہتاہوںاور خدانے میرے دل کو اس سے پاک بنایا ہے کہ اس میںبے انصافی ہو ۔ اس کا بار ثبوتآپ کے ذمّہ ہے رکیک تاویلوںکام نہیںچلتااورنہ اُن سے تسّلی ہوسکتی ہی ۔ آپ خود دل میںانصاف کریںکہ راستباز کے بغیر کوئی کام نہ کرے گاجومیںکرتاہوں۔
پس اپ جس قدرمفصل اس پر لکھ سکیںوہ لکھ کر سُنادیں۔ مگر اتنایادرکھیںکہ وہ دعویٰ اپنے نفس میںابہام رکھتاہے ۔ بعض آدمیوںکو یہ دھوکالگ جاتاہے کہ وہ دعویٰ اوردلیل میںفرق نہیںکر سکتے ۔ دعوے کے لیے دلیل ایک روشن چراغ ہوتی ۔پس دعویٰ اور دلیل میںفرق کر لینا ضروری ہے ۔۱؎ ( اس پر مسٹر عبدالحق نے کہا کہ میںکل لکھ کر سُنادوںگا اور حضرت اقدس تشریف لے گئے ۔)