ہے ۔ میں نے کہا انجیل امیں تولکھاہے دُشمنوںسے پیار کرو ۔ یہ کہاںلکھاہے کہ دُشمنوںکو گالیا ںدو ۔ پھر میںنے مسٹر سراج دین سے اس کا ذکرکیا اُنھوںنے بھی اُس کو اچھّا نہ سمجھا ۔بعض آدمیوںکی حالت یہاںتک پہنچی ہوئی ہے ۔
حضرت مسیح موعود ؑ : گالیاں دیتے اس کی تو مجھے پرواہ نہیں ہے ۔ بہت سے خطوط گالیوں کے آتے ہیں جن کا مجھے محصول بھی دینا پڑتاہے اور کھولتاہوںتوگالیا ںہوتی ہیں ۔ اشتہاروں میں گالیاںدی جاتی ہیں ۔ اور اب تو کھلے لفافوں پر گالیاںلکھ کر بھیجتے ہیں۔ مگر ان باتوںسے کیا ہوتا ہے ۔اور خداکانورکہیںبجھ سکتاہے ؟ ہمیشہ نبیوں، راستبازوں کے ساتھ ناشکروںنے یہی سلوک کیاہے ہم جسکے نقش قدم پر آئے ہیں مسیح ناصری اس کے ساتھ کیا ہوا ۔اورہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیاہو ا ۔ اب تک ناپاک طبع لوگ گالیاںدیتے ہیں ۔ میںتو بنی نوح انسان کاحقیقی خیر خواہ ہوں ۔ جو مجھے دُشمن سمجھتاہے وہ خود اپنی جان کادُشمن ہے (اتنے میں مکان کے قریب پہنچ گئے اور حضرت ؑنے پھرفرمایاکہ ) آپ مہمان ہیں آپ کو جس چیز کی تکلیف ہو ، مجھے بے تکلف کہیں ۔ کیونکہ میں تواندر رہتا ہوںاور نہیںمعلوم ہوتاکہ کس کوکیاضرورت ہے ۔آجکل مہمانوںکی کثرت کی وجہ سے بعض اوقات خادم بھی غفلت کر سکتے ہیں ۔ آپ اگر زبانی کہناپسند نہ کریں، تو مجھے لکھ کر بھیج دیاکریں ۔ مہمان نوازی تومیرافرض ہے ۔‘‘
تیسری ملاقات
۲۴دِسمبر۱۹۰۱
مسٹر عبد الحق : کفاّرہ کامسئلہ تو میں نے سمجھ لیا ہے تثلیث کاردّکریں ۔‘‘
حضرت مسیح موعود ؑ: ‘‘میںنے سب سے پہلے اسی لیے آپ کو کہاتھاکہ آپ اپنے اعتراض پیش کریںجواسلام پر ہوتے ہیںاور خود اپنی تقریر کے ضمن میںجہادؔ ،غلامی ؔ تعدادؔازدواج پر کچھ باتیںکی تھیںتاکہ آپ کو اس پر اعتراض کرنے کاموقع ملے ۔
میری رائے میںطالب حق کافرض ہے کہ جوبات اس کے دل میںخلجان کرے اس کو فوراً پیش کردے ، ورنہ وہ ایمان کوکمزور کرے گی اور روحانی قوتوں پر بُرااثر ڈالے گی ۔ جیسے کوئی خراب غذا کھالے تو وہ اندر جاکر خرابی