کو شناخت کریں اور اس زندگی سے جوانہیں جہنم اور ہلاکت کی طرف لے جاتی اور جس کو گناہ آلود زندگی کہتے ہیں، نجات پائیں، حقیقت میں یہی بڑا بھاری مقصد ان کے آگے ہوتا ہے پس اس وقت بھی جو خدا تعالیٰ نے ایک سلسلہ قائم کیا ہے اور اس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے تو میرے قریب آنے کی غرض بھی وہی مشترک غرض ہے جو سب نبیوں کی تھی یعنی میں بتاناچاہتاہوں کہ خدا کیا ہے؟ بلکہ دکھانا چاہتا ہوں ،اور گناہ سے بچنے کی راہ کی طرف رہ بری کرتا ہوں۔ دنیا میں لوگوں نے جسقدر طریقے اور حیلے گناہ سے بچنے کے لئے نکالے ہیں اور خدا کی شناخت کے جو اصول تجویز کئے ہیں۔وہ انسانی خیالات ہونے کی وجہ سے بالکل غلط ہیں اور محض خیالی باتیں ہیں جن میں سچائی کی کوئی روح نہیں ہے میں ابھی بتائوں گا اور دلائل سے واضح کروں گا کہ گناہوں سے بچنے کا صرف ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ ہے کہ اس بات پر کامل یقین انسان کو ہو جاوے کہ خدا ہے اور وہ جزا سزا دیتا ہے جب تک اس اصول پر یقین کامل نہ ہو گناہ کی زندگی پر موت وارد نہیں ہو سکتی دراصل خدا ہے اور ہونا چاہئے یہ دو لفظ ہیں جن میں بڑے غور اور فکر کی ضرورت ہے۔
پہلی بات کہ خدا ہے ، یہ علم الیقین بلکہ حق الیقین کی تہہ سے نکلتی ہے اور دسری بات قیاسی اور ظنی ہے مثلاً ایک شخص جو فلاسفر اور حکیم ہو وہ صرف نظام شمسی اور دیگر اجرام اور مصنوعات پر نظر کر کے صرف اتنا ہی کہہ دے کہ اس ترتیب محکم سے اور ابلغ نظام کو دیکھ کر میں کہتا ہوں کہ ایک مدبر اور حکیم و علیم و صانع کی ضرورت ہے تو اس سے یقین کے اس درجہ پر ہرگز نہیں پہنچ سکتا جو ایک شخص خود اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہو کر اور اس کی تائیدات کے چمکتے ہوئے نشان اپنے ساتھ رکھ کر کہتا ہے کہ واقعی ایک قادر مطلق خدا ہے وہ معرفت اور بصیرت کی آنکھ سے اسے دیکھتا ہے اور ا ن دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک حکیم یا فلاسفر جو صرف قیاسی طور پر خدا کے وجود کا قائل ہے سچی پاکیزگی اور خدا ترسی کے کمال کو حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ظاہر بات ہے کہ نری ضرورت کا علم کبھی بھی اپنے اندر وہ قوت اور طاقت نہیں رکھتا جو الہی رعب پیدا کر کے اسے گناہ کی طرف دوڑنے سے بچا لے اور تاریکی سے نجات دے جو گناہ سے پیدا ہوتی ہے مگر جو براہ راست خدا کا جلال آسمان سے مشاہدہ کرتا ہے وہ نیک کاموں اور وفاداری اور اخلاص کے لئے اس جلال کے ساتھ ہی اکی قوت اور روشنی پاتا ہے جو اسے بدیوں سے بچا لیتی اور تاریکی سے نجادیتی ہے اس کی بدی کی قوتیں اور نفسانی جذبات پر خداکے مکالمات اور پررعب مکاشفات سے ایک موت وارد ہوتی جاتی ہے اور وہ شیطانی زندگی سے نکل کر ملائکہ کی سی زندگی بسر کرنے لگتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اشارے پر چلنے لگتا ہے جیسے ایک شخص آتش سوزندہ کے نیچے بد کاری نہیں کر سکتا اسی طرح جو شخص خدا کی تجلیات کے نیچے آتا ہے اس کی شیطنت مر جاتی ہے اور اس کے سانپ کا سر کچلا جاتا ہے پس یہی وہ یقین اور معرفت ہوتی ہے جس کو