لیتا ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ امت میں ابدال ہوتے ہیں جن فطرت کو بدلا دیا جاتا ہے اور یہ تبدیلی اتباع سنت نبوی اور دعائوں سے ملتی ہے ۔ فرمایا:’’ یہ ان لوگوں کی غلطی ہے ۔گناہ کی تعریف میں انہوں نے دھوکا کھایا ہے گناہ اصل میں جناح سے لیا گیا ہے اور ج کا تبادلہ گ سے کیا گیا ہے جیسے فارسی والے کر لیتے ہیں اور جناح عمدا کسی کی طرف میل کرنے کو کہتے ہیں پس گناہ ہے یہ مراد ہے کہ عمدا بدی کی طرف میل کی جاوے پس میں ہرگز نہیں مان سکتا کہ انبیاء علیہم السلام سے یہ حرکت سرزد ہو اور قرآن شریف میں اس کا ذکر بھی نہیں۔انبیاء علیہم السلام سے گناہ کا صدور اس لئے ناممکن ہے کہ عارفانہ حالت کے انتہائی مقام پر وہ ہوتے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ عارف بدی کی طرف میل کرے۔‘‘ فرمایا:’’عصی سے تو عمد نہیں پایا جاتا کیونکہ دوسری جگہ خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے فنسی و لم یجد لہ عزما(طٰہٰٰ:۱۱۶) عصی سے یاد آیا میرا ایک فقرہ ہے العصا علاج من عصی اس سے معلوم ہوتا کہ جلالی تجلیات سے انسان گناہ سے بچ سکتا ہے۔‘‘۱؎ ۱۸؍نومبر ۱۹۰۱ئ؁ بوقت سیر صبح ساڑھے آٹھ بجے مسٹر ڈکسن سیاح کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : حضرت اقدس :’’ ہماری دلی آرزو یہی ہے کہ آپ چند روز ہمارے پاس ٹھہریں ، تاکہ میں اسلام کی وہ روحانی فلاسفی جو اس زمانہ میں مخفی تھی اور جو خدا نے مجھے عطا کی ہے آپ کو سمجھائوں۔‘‘ مسٹر ڈکسن:’’میں آپ کا از بس ممنوں ہوں، مگر مجھے آج جانا ہی چاہئے میں نے کچھ کچھ سن لیا ہے۔‘‘ حضرت اقدس:’’ چونکہ آپ کو چلے جانا ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ کچھ تو اپنے مقصد کو بیان کر دوں۔‘‘ انبیاء علیہم السلام کی دنیا میں آنیکی سب سے بڑی غرض اور ان کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم الشان مقصد یہ ہوتا ہے کہ کہ لوگ خدا تعالیٰ