انبیاء علیہم السلام آکر دنیا کو عطا کرتے ہیں جس کے ذریعہ وہ گناہ سے نجات پا کر پاک زندگی حاصل کر سکتے ہیں۔
اسی طریق پر خدا نے مجھے مامور کیا ہے اور میرے آنے کی یہی غرض ہے کہ میں دنیا کو دکھا دوں کہ خدا ہے اور وہ جزا سزا دیتا ہے اور یہ بات کہ محض اس یقین ہی سے انسان پاک زندگی بسر کر سکتا ے اور گناہ کی موت سے بچ سکتا ہے ایسی صاف ہے جہ کے لئے ہم کو منطقی دلائل کی بھی ضرورت نہیں۔کیونکہ خود انسان کی فطرت اور روز مرہ کا تجربہ اور مشاہدہ اس کے لئے زبردست گواہ ہیں کہ جب تک یہ یقین کامل نہ ہو گا کہ خدا ہے اور وہ گناہ سے نفرت کرتا ہے اور سزا دیتا ہے کوئی اور حیلہ کسی صورت میں کارگر ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن اشیاء کی تاثیرات کی عمدگی کا ہم کو علم ہے ہم کیسے دوڑ دوڑ کر ان کی طرف جاتے ہیں اور جن چیزوں کو اپنے وجود کے لئے خطرناک زہریں سمجھتے ہیں ان سے کیسے بھاگتے ہیں مثال کے طورپر دیکھوا س جھاڑی میں اگر ہمیں یقین ہو کہ سانپ ہے تو کیا کوئی بھی ہم میں سے ہو گا جو اس مین اپنا ہاتھ ڈالے یا قدم رکھ دے۔ ہرگز نہیں بلکہ اگر کسی بل میں سانپ کے ہونے کا معمولی وہم بھی ہو تو اس طرف گزرنے میں ہر وقت مضائقہ ہو گا طبیعت خود بخود اس طرف جانے سے رکے گی ایسا ہی زہروں کی بابت جب ہمیں علم پڑتا ہے مثلاً اسٹرکنیا ہے کہ اس کے کھانے سے آدمی مر جاتا ہے تو کیسے اس سے بچتے اور ڈرتے ہیں ایک محلہ میں طاعون ہو تو اس سے بھاگتے ہیں اور وہاں قدم رکھنا آتشیں تنور میں گرنا سمجھتے ہیں۔اب وہ بات کیا ہے جس نے دل میں خوف اور ہراس پیدا کیا ہے کہ کسی صورت میں بھی دل اس طرف ارادہ نہیں کرتا وہ وہی یقین ہے جو اس کی مہلک اور مضر تاثیرات پر ہو چکا ہے اس قسم کی بے شمار نظیریں ہم دے سکتے ہیں او ریہ ہماری زندگی میں روزمرہ پیش آتی ہیں۔
اب یہ بحثیں کہ گناہ سے بچنے کا یہ ذریعہ ہے یا یہ فلاں حیلہ ہے بالکل بے سود اور بے مطلب ہیں کیونکہ ج تک الہی تجلیات کے رعب اور گناہ کی زہریں اور اس کے خطرناک نتائج کا پورا علم نہ ہوایسا علم جو یقین کامل تک پہنچ گیا ہو گناہ سے نجات نہیں ہو سکتی۔
یہ ایک خیالی اور بالکل بے معنی بات ہے کہ کسی خون گناہ سے پاک کر سکتا ہے ۔ خون یا خودکشی کو گناہ سے کیا تعلق ؟ وہ گناہ کے زائل کرنے کا طریق نہیں ہاں اس سے گناہ پیدا ہو سکتا ہے اور تجربہنے شہادت دی ہے کہ اس مسئلہ کو مان کر کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔
میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ گناہ سے بچنے کی سچی فلاسفی یہی ہے کہ گناہ کی ضرر دینے والی حقیقت کو پہچان لیں او ر اس بات پر یقین کر لیں کہ ایک زبردست ہستی ہے جو گناہوں سے نفرت کرتی ہے اور گناہ کرنے والے کو سزا دینے پر قادر ہے۔