حقوق العباد کے متعلق اتناہی کافی ہے اُن میں نیوگؔکا مسئلہ موجود ہے کہ اگر ایک عورت کے اپنے خاوند سے اولاد نہ ہوتی ہوتو وہ کسی دوسرے مرد سے ہمبسترہو کر اولاد پیدا اور کھانے پینے مقویات اور بستر وغیر ہ کے سارے اخراجات اُس بیرج داتا کے اس خاوند کے ذمہّ ہوںگے ، جو اپنی عورت کو اُس سے اولاد لینے کی اجازت دیتا ہے ۔اس سے بڑھ کر قابل ِشرم اور کیا بات ہوگی ۔ یہ تو مختصر سا مونہ ہے ۔یہاںقادیاں میں پنڈت سومراج ایک مدرس تھا جو آریہ ہے اُس کو میں نے ایک جماعت کے رو برو بلایا جس میں بعض ہندو بھی تھے اور اُس سے یہ مسئلہ پوچھا ۔تو اُس نے کہا ہاںجی کیا مضائقہ ہے ۔ اب ہمیںتواس کے ُمنہ سے یہ سُن کر تعجب ہی ہودوسرے ہندوؔرام رام کرنے لگے ۔میں نے سُن کر کہا بس آپ جائیے ۔غرض یہ ہے اُن میں حقوق العباد کالحاظ۔
مِسٹر عبداکحق صاحب: میں نے آپ کی کتاب ’’ آریہ دھرم ‘‘پڑھی ہے
حضرت مسیح موعود : ساری تقریر کا خلاصہ یہ ہے کے ہر سچّا مذہب اور سچّا عقید ہ ان تین نشانو ں یعنی نصوصؔ، عقل ؔاور تائید ِؔ سمادی سے شناخت کیا جاتا ہے اور عیسائی مذہب کی بابت میں مختلف پہلوؤں سے مختصر طور پر آپ کو دکھایا کہ اس معیار پر پورانہیں اترتا ۔ یہودیوں کی کتابو ںتثلیث اور کفّارہ کا کوئی پتہ نہیں اور کھی وہ بیٹے خداکے منتظرہی نہ تھے اور عقل دُور سے دکھے دیتی تھے نشانات کا یہ حال کہ ایمانداروںکے نشان کا پایا جانابھی مشکل ہے ایک بار فتح مسیح نام ایک عیسائی نے کہا تھا کہ مجھے الہام ہوتا ہے ۔میَں نے جب اُسے کہا کہ تو پیش گوئی کر تو گبھرایا اور مجھے کہا کہ ایک مضمون بند لفافہ میں رکھا جاوے اور آپ اس کا مضمو ن بتادیں ۔مجھے خدا تعالیٰ نے اطلاع دی کہ تو اسکو قبول کر لے ۔ جب مَیں نے اس کو بھی قبول کر لیا ،تو کئی سَو آدمیوں کے مجمع میں آخر پادری وائٹ بریخیت نے کہا کہ یہ فتح مسیح جھوٹا ہے ۔ غرض حق ایسی چیز ہے کے اپنے ساتھ نصوص اور عقل کی شہادت کے علاوہ نور کی شہادت بھی رکھتاہے اور یہ شہادت سب سے بڑھ کر ہوتی ہے اور یہی ایک نشان مذہب کی مذہب کی زندگی کا ہے ،کیو نکہ جو مذہب زندہ خدا کی طرف سے ہے اس میں ہمیشہ زندگی کی روح کا پایا جانا ضروری ہے تا اس کے زندہ خدا سے تعلق ہونے پر ایک روشن نشان ہو۔ مگر عیسائیوں میں یہ ہر گز نہیںہے۰‘حالانکہ اس زمانے جو سائنس اور ترقی کا زمانہ کہلاتاہے ایسے خارق عادت نشانوں کی بڑی بھاری ضرورت ہے جو خداتعالیٰ کی ہستی پر دلائل ہو ں ۔ اب اس وقت اگر کوئی مسیح کے گذشتہ معجزات جن کی ساری رونق تالاب کی تاثیر دُور کر دیتی ہے سُنا کر اُس خدائی کو منوانا چاہے تو اس کے لیے لازمی بات ہے کے جوہ خود کوئی کرشمہ دکھائے ، ورنہ آج کوئی منطق یا فلسفہ ایسا نہیںہے جو ایسے انسان کی خدائی ثابت کر دکھائے جو ساری رات روتارہے اور اُس کی