کس قدر خون کے دریا بہتے ہیں اور انجیل کی تعلیم اگر ناقص او ر ادھوری نہ ہوتی تو سلاطین کو جدید قوانین کیوں بنانے پڑتے۔
آریوں کے عقائد
غرض یہ حقوق العباد پر انجیل کی تعلیم کا اثر ہے۔اب میں یہ بھی بتا دینا چا ہتاہوں کہ دیانندؔنے جووید کا خلاصہ ان دونوں اصولوں کی رو سے پیدا ہوا ہے وہ کیا ہے ۔ حق اللہ کے متعلق کے تو اُس نے یہ ظلم کیا ہے کے مان لیا ہے کے خدا کسی چیز کا بھی خالق نہیں ہے ۔بلکہ یہ ذرّات اور اَرواح خود بخود ہی اس کی طرح ہے ۔ وہ صرف اُن کا جوڑنے جاڑنے ہے ۔ جس کو عربی زبان میں مؤلّف کہتے ہیں ، اب اس سے بڑھ کر حق اللہ کا ائلاف اور کیاہو گا کہ اس کی ساری صفات ہی کو اُڑا دیا اور عظیم الشان صفت خالصیٔت کا زور سے انکار کیا گیا ۔ جبکہ وہ جوڑنے جاڑنے والاہی ہے ۔تو پھر سمجھ میں نہیں آتا کیاگر یہ تسلیم کر لیا جاوے کے وہ ایک وقت مر بھی جاوے گا، تو اس سے مخلوق پر کیا اثر پرسکتا ہے ۔کیونکہ جب اس نے اُسے پیداہی نہیں کیا ، تووہ اپنے وجودکے بقااور قیام میں قائم بالذّات ہیں اُس کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ جوڑنے جاڑنے سے اس کا کوئی حق اور قدرت ثابت نہیں ہوتی ۔جبکہ کے اجسام اور روحوں میں مختلف قوتیں اتصال اور انفصال کی بھی موجود ہیں ۔ روح میںبڑی بڑی قوتیںہیں ۔ جیسے کشف کی قوت ۔ انسانی روح جیسی یہ قوت دکھاسکتے ہیں اور کسی کا روح نہیں دکھا سکتا ۔ مثلاًگائے یا بیل کا ۔اور افسوس ہے کہ آریہ ان ارواح کو بھی معہ اُن کی قوتوں اور خواص کے خدا کی مخلوق نہیں سمجھتا۔ اب سوال یہ ہوتاہے جب یہ اشیاء اجسام اورارواح خود بخود قائم بالذّات ہیں اور ان میں اتصال اور انفصال کی قوتیں بھی موجود ہیں تو وجود باری پر اُن کے وجود سے کیا دلیل لی جاسکتی ہے ۔ کیونکہ جب میںیہ کہتا ہوں کہ یہ سوٹا ایک قدم چل سکتا ہے ۔ دوسرے قدم پر اس کے نہ چلنے کی کیا وجہ ؟
وجود باری پر دو ہی قسم کے دلائل ہو سکتے ہیں ۔ اوّل تو مصنوع کو دیکھ کر صانع کے وجود کی طرف ہم انتقال ذہن کاکرتے ہیں۔وہ تو یہاںمفقود ہے ، کیونکہ اس نے کچھ پیداہی نہیں کیا ۔ کچھ پیداکیا ہو تو اس سے وجودخالق پر دلیل پیدا کریںاور یا دوسری صورت خوارق اور معجزات کی ہوتی ہے ۔اس سے وجود باری پر زبردست دلیل قائم ہوتی ہے مگر اس کے لیے دیانند ؔاور سب آریوںنے اعتراف کیا ہے کہ ویدؔمیںکسی پیش گوئی یا خارق عادت امر کاذکر نہیں اور معجزہ کوئی چیز نہیںہے اب بتاو کونسی صورت خدا کی ہستی پر دلیل قائم کرنے کی اُن عقیدہ کے رو سے رہی ۔ پھر اُن کا ایسا خدا ہے کہ کوئی ساری عمر کتنی ہی محنت ومشقت سے اُس کی عبادت کرے ،مگر اس کو ابدی نجات ملے گی ہی نہیں۔ ہمیشہ جوُنوںکے چکر میں اُسے چلنا ہو گا کبھی کیڑا مکوڑااور کبھی کچھ کبھی کچھ بنناہوگا ۔