کی توہین کرنے والا ٹھہرے گا کیونکہ وہ اپنے اس طریق سے یہ ثابت کرتا ہے کہ خدانے یہ قوتیں لغو پیدا کی ہیں ۔ پس اگرا نجیل ایک ہی قوت پر زور دیتی ہے تو میں آپ سے انصافاً پوچھتا ہوں کہ خدا سے ڈر کر بتائیں کہ یہ خدا کے اس فعل کی ہتک نہیں ہے کہ اس نے مختلف قوتیں اور استعدادیں انسان کی روح میں رکھ دی ہیں ۔ انجیل ایک ہی قوت پر زور دیتی ہے اگر کوئی عیسائی یہ کہے کہ صرف نرمی اور حلم ہی کی قوت سے ساری قوتوں کا نشوونما ہو سکتا ہے تو اس کی دانشمندی میں کوئی شک کرے گا بحالیکہ خود خدا کی صفات بھی مختلف ہیں او ر ا ن سے مختلف افعال کا صدور ہو تا ہے اور خود کوئی عیسائی پادری ہم نے ایسا نہیں دیکھا کہ مثلا سردی کے ایام میں بھی گرمی ہی کے لباس سے کام لے اور ویسی غذاؤں پر گزارہ کرے یا ساری عمر ماں ہی کا دودھ پیتا رہے یا بچپن ہی کے چھوٹے چھوٹے کرتے پاجامے پہنا کرے غرض اس قسم کی تعلیم پیش کرتے ہوئے شرم آجاتی ہے اگر ایمان اور خدا کا خوف ہو اگر نرمی اور حلم ہی کافی تھا تو پھرکیا یہ مصیبت پڑی کہ انجیل کے ماننے والوں کو دیوانی اور فوجداری جرائم کی سزائوں کے لئے قانون بنانے پڑے اور سیاست اور ملک داری کے آئین کی ضرورت ہوئی ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری طرف پھیرنے والوں کو فوجوں اور پولیس کی کیا ضرورت !! خدا کے لئے کوئی غور کرے ۔ پس اسی اصول نے تمام حقوق العباد پر پانی پھیر دیا ہے جب کہ ساری قوتوں ہی کاخون کر دیا۔ اسلام کل انسانی قوی کا متکفل ہے اب اس کے مقابل میں دیکھو کہ اسلام نے کیسی تعلیم دی اور کس طرح پر ساری قوتوں اور طاقتوں کا تکفل فرمایا۔ اسلام نے سب سے اول یہ بتایا ہے کہ کوئی قوت اور طاقت جو انسان کو دی گئی ہے فی نفسہٖ وہ بری نہیں ہے بلکہ اس کی افراط یا تفریط اور برا استعمال اسے اخلاق ذمیمہ کی ذیل میں داخل کرتا ہے اور اس کا برمحل اور اعتدال پراستعمال ہی اخلاق ہے ۔یہی وہ اصول ہے جو دوسری قوموں نے نہیں سمجھا اور قرآن نے جس کو بیان کیا ہے اب اس اصول کو مدنظر وہ کہتا ہے جزاؤ سیئۃ سیئۃ مثلہا فمن عفا و اصلح(الشوری:۴۱) یعنی بدی کی سزا تو اسی قدر بدی ہے لیکن جس نے عفو کیا اور اس عفو میں اصلاح بھی ہو عفو تو ضرو ررکھا ہے مگر یہ نہیں کہ اس عفو پر شریر اپنی شرارت میں بڑھے یا تمدن اور سیاست کے اصولوں اور انتظام میں کوئی خلل واقع ہو بلکہ ایسے موقع پر سزا ضروری ہے عفو اصلاح ہی کی حالت میں روا رکھا گیا ہے ۔اب بتائو کہ کیا یہ تعلیم انسانی اخلاق کی متمم ہو سکتی ہے یا نرے طمانچے کھانے۔قانون قدرت بھی پکار کر اسی کی تائید کرتا ہے۔اور عملی طور پر بھی اس کی تائید ہوتی ہے انجیل پر عمل کرنا ہے تو پھر آج ساری عدالتیں بند کر دو اور دون کے لے پولیس اور پہرہ اٹھا دو تو دیکھو کہ انجیل کے ماننے سے