وہمٹی پلید کی کہ کسی طرح پر وہ درست ہونے میں نہیں آتے۔انجیل کی ساری تعلیم ایک ہی طرف جھکی ہوئی ہے ااور انسان کی کل قوتوں کی مربی نہیں ہو سکتی اول تو کفارہ کا مسئلہ مان کر پھر حقوق العباد کے اتلاف سے بچنے کے لئے کوئی وجہ ہی نہیں مل سکتی ہے کیونکہ جب یہ مان لیا گیا ہے مسیح کے خون نے گناہوں کی نجاست کو دور کردیااور دھو دیا ہے ؛ حالانکہ عام طور پر خون سے کوئی نجاست دور نہیں ہو سکتی ہے تو پھر عیسائی بتائیں کہ وہ کونسی بات ہے جو حقیقت میں انہیں روک سکتی ہے کہ وہ دنیا میں فساد نہ کریں او رکیونکر یقین کریں، چوری کرنے بیگانہ مال لینے ڈاکہ زنی خون کرنے جھوٹی گواہی دینے پر کوئی سزا ملے گی اگر باوجود کفارہ پرایمان لانے کے بھی گناہ گنا ہ ہی ہیں تو میری سمجھ میںنہیں آتا کہ کفار ہ کے کیامعنی ہیں۔
غرض حقوق العباد کو پورے طور پر ادا کرنے اور بجا لانے کے لئے اللہ تعالی نے انسان کو مختلف قوتوں کا مالک بنا کر بھیجا تھا اور اس سے منشاء یہی تھا کہ اپنے محل پر ہم ان قوتوں سے کام لے کر بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائیں مگر انجیل کا سارا زور حلم اور نرمی ہی کی قوت پر ہے؛ حالانکہ یہ قوت بعض موقعوں پر زہر قاتل کی تاثیر رکھتی ہے۔
روحانی زندگی کی ترکیب
اس لئے ہماری یہ تمدنی زندگی جو مختلف طبائع اور اختلاط اور ترکیب سے بنی ہے اپنی ترکیب اور صورت میں بالطبع یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے تمام قوی کو محل اور موقعہ پر استعمال کریں لیکن انجیل محل اور موقعہ شناسی کو تو پس پشت ڈالتی ہے اور اندھا دھند ایک ہی امر کی تعلیم دیتی ہے کہ کیا ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری طرف پھیر دینا عملی صورت میں بھی آسکتا ہے اور کرتہ مانگنے والے کو چغہ دینے والے آپ نے بھی دیکھے ہیں اور کیا کوئی آدمی جو انجیل کی تعلیم کا عاشق زار ہو کبھی گوارا کر سکتا ہے کہ کوئی شریر اور نابکار انسان اس کی بیوی پر حملہ کرے تو وہ لڑکی بھی پیش کر دے۔
جس طرح پر ہم کو اپنے جسم کی صحت اور صلاحیت کے لئے ضرو رہے کہ مختلف غذائیں موسم اور فصل کے لحاظ سے کھائیں اور مختلف لباس پہنیں ویسے ہی روح کی صلاحیت اور اس کی قوتوں اور خواص کے نشوونما کے واسطے لازم ہے کہ اس قاعدہ کو مدنظر رکھیں جسمانی تمدن میں جس طرح پر گرم و سرد نرم سخت حرکت و سکون کی رعایت رکھنی ضروری ہے اسی طرح پر روحانی صحت کے لئے مختلف قوتوں کا عطا ہونا ایسی صاف دلیل اس امر کی ہے کہ روح کی بھلائی کے لئے ان سے کام لینا ضروری ہے اور اگر ان مختلف قوتوں سے ہم کام نہیں لیتے یا نہ لینے کی تعلیم دیتے ہیں تو ایک خدا ترس او ر غیور انسا ن کی نگاہ میں ایسا معلم خدا