بالکل معمولی باتین ہیں، جو آجکل کے مدّبر تو اس سے بھی بڑھ کر بتا دیتے ہیں کہ فلاں وقت طوفان آئیگا۔ فلاں وقت بارش شروع ہو گی۔
رُسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو دیکھو کہ کس طرح پر چھ سو سال پہلے کہا کہ ایک آگ نکلے گی جو سبزہ کو چھوڑ ے گی۔ اور پتھّر کو گلائے گی اور وہ پُوری ہوئی۔ اس قسم کی درخشاں پیشگوئیاں تو پیش کریں۔ میں نے ایک ہزار روپیہ کا انعام کا اشتہار مسیح کی پیشگوئیوں کے لیے دیا تھا، مگر آج تک کسی عیسائی نے ثابت نہ کیا کہ مسیح کی پیشگوئیاں ثبوت کی قوت اور تعداد میں میری پیشگوئیوں سے بڑھ کر ہیں۔ جن کا گواہ سارا جہان ہے۔
مسیح کے مُعجزات جو قصص کے رنگ میں ہیں ان سے کوئی فوق العادت تائید الہٰی کا پتہ نہیں لگتا۔ جبکہ آج اس سے بڑھ کر طبّی کرشمے اور عجائبات دیکھے جاتے ہیں۔ خصوصاًایسی حالت میں کہ خود انجیل میں ہی لکھا ہے کہ ایک تالاب تھا ۔ جس میں ایک وقت پر غسل کرنے والے شفاپالیتے تھے۔ اور اب تک یورپ کے بعض ملکوں میں ایسے چشمے پائے جاتے ہیں۔ اور ہمارے ہندوستان میں بھی بعض چشموں یا کنوئوں کے پانی میں ایسی تاثیر ہوتی ہے۔ تھوڑے دن ہوئے اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ ایک کنوئیںکے پانی سے جذامی اچھی ہو نے لگے ۔اب عیسائی مذہب کے کن تا ئیدی نشانوں کو ہم دیکھیں۔پچھلوںکا یہ حال ہے اور اب کوئی دکھا نہیں سکتا۔ اسی طرح پار ہی اگر مان لینا ہے تو ہندوئوں نے کیا قصور کیا ہے۔؎ٰ کہ اُن کے ۳۳ کروڑ دیوتائوں کو نہ مانا جائے اور پورانوں کے قصّوں کو تسلیم نا کیا جائے۔ دیانندؔ نے ایک جدید طریق نکال کر ہندوئوں کے مذہب پر تو ہاتھ صاف کیا کہ رامؔ کا نام وید میں نہیں ہے، مگر خود جو کچھ ویدوں کا خلاصہ پیش کیا وہ بھی ایک گند نکالا۔
مذہب کا خلا صہ
مذہب کا خلا صہ دو ہی با تیں ہیںاور اصل میں ہر مذہب کا خلاصہ ان دو ہی باتوں پرآ کر ٹہر تا ہے۔یعنی حق اللہ اور حق العباد ۔مگر ان دونو ں ہی کے متعلق اس نے گند پیش کیا اور اسے وید کی تعلم کا عطر بتا یا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ حق دو ہی ہیں ایک خدا کے حقو ق کہ اسے کس طرح پر ماننا چا ہیے اور کس طر ح پر اس کی عباد ت کر نی چاہیے ۔دوم بندوں کی حقوق یعنی اس کی مخلو ق کے سا تھ کیسی ہمدردی اور مواسا ت کرنی چاہیے ۔
دیانند نے اسکے متعلق جو کچھ بتایا ہے وہ میںپھر بتاؤںگا۔پہلے یہ ظاہر کر دوں کہ عیسائیوںنے بھی ان دونوںاصولوں میں سخت بیہودہ پن ظاہر کیا ہے ۔حق اللہ اور حق العباد مگر ان دونوں ہی کے متعلق اس نے گند پیش کیا او ر اسے وید کی تعلیم کا عطر بتایا ہے۔
یاد رکھنا چاہئے کہ حق دو ہی ہیں۔ ایک خدا کے حقوق کہ اسے کس طرح پر ماننا چاہئے اور کس طرح اس کی عبادت کرنی چاہئے دوم بندوں کے حقوق یعنی اس کی مخلوق کے ساتھ کیسی ہمدردی اور مواسات کرنی چاہئے۔دیانند نے بھی اس کے متعلق جو کچھ بتایا ہے وہ میں پھر بتائوں گا پہلے یہ ظاہر کر دوں کہ کہ عیسائیوں نے بھی اس کے دونوں اصولوں میں سخت بے ہودہ پن ظاہر کیا ہے حق اللہ میں نے تو دیکھ لیا کہ انہوں نے اس خدا کو چھوڑ دیا جو موسی اور راستبازوں پر ظاہر ہواتھا اور ایک عاجز انسان کو خدا بنا لیا اور حقوق العباد کی