کو کوڑے مارے اور خدا کے بندے اپنے قادر خدا کے مُنہ پر تھُوکیں اور اس کو پکڑیں اور سُولی پر کھینچیں اور وہ یہ ساری ذلّ دیکھ کر اور خدا ہو کر اپنی رُسوائی کا تماشہ دکھاتا رہے؟ کیا عقل مان لیتی ہے کہ ایک عورت کا بچّہ جو نَو مہینے تک پیٹ میں رہے اور خُونِ حیض کھاوے اور آخر عام بچّوں کی طرح چلّاتا ہواشرمگاہ سے پیدا ہو وہ خدا ہوتا ہے۔ کیا کسی دل کو اس پر اطمینان ہو سکتا ہے کہ ایک شخص خدا کہلا کر ساری رات موت سے بچنے کے لیے دُعا کرتا رہے۔ اور قبول نہ ہو۔ ایسا ہی کبھی عقل یہ تجویزنہیں کر سکتی کہ کسی کی خودکشی سے دوسرے کے گناہ بخشے جاتے ہیں۔ اگر مسیح کے روٹی کھانے سے حواریوں کے پیٹ بھر جاتے تھے اور عقل کے نزدیک یہ جائز ہے، تو شاید یہ بھی سچ ہو کہ کسی کے دردِ سر کا علاج اپنے سر میں پتھّر مارنا بھی ہے۔ تیسرا ذریعہ شناخت کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کبھی سچّے مذہب کو ضائع نہیں کرتا اور اہلِ حق کو ہر گز نہیں چھوڑتا۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا باغ ہے اور کبھی کسی نے نہیں دیکھا ہوگا کہ ایک شخص باغ لگا کر اپنے باغ کی طرف سے بالکل لا پَروا ہو جاوے، نہیں بلکہ اس کی آبپاشی، شاخ تراشی اور حفاظت وغیرہ تمام امُور کا جو اس کی سرسبزی اور شادابی کے لیے ضروری ہیں، پُورا اہتمام کرتا ہے۔ اسی طرح پر اللہ تعالیٰ اپنے راستبازوں اور دی ہوئی صداقتوں کی تائید کے لیے ہمیشہ تازہ بتازہ تائیدات دیتا رہتا ہے جن کی توشنی میں صادق چلتا ہے اور شناخت کیا جاتا ہے۔ عیسائیت میں کوئی زندہ نشان نہیں اب عیسائیوں کے عقائد اور مذہب کو اس معیار پر بھی آزما کر دیکھ لو کہ ان میں بُجز بوسیدہ ہڈیوں اور مُردہ باتوں کے اور کیا رکھا ہے۔ بالاتفاق وہ مانتے ہیں کہ اُن میں آت ایک بھی ایسا شخص نہیں جو اپنے مذہب کی صداقت اور خُون مسیح کی سچّائی پر اپنے نشانات کی مُہر لگا سکے۔ یہ تو بڑی بات ہے۔مَیں کہتا ہوں کہ انجیل کے قراردادہ نشانوں کے موافق تو شاید ایمان دار ہونا بھی ایک امر محال ہوگا۔ اچھا! زندہ نشانات کو تو جانے دو۔ عیسائی مذہب جو اپنے تائیدی نشانوں کے لیے مسیح کی قبر کا پتہ دیتا ہے کہ اس نے فُلاں قبر سے مُردہ اُٹھایا تھا۔ وہ بُجز قِصّوں کے اور کیا وقعت رکھ سکتے ہیں۔ اسی لیے میں نے بار ہا کہا ہے کہ یہ سلبِ امراض کے اعجوبے جو بعض ہندُو سنیا سی بھی کرتے ہیں اور اس ترقی کے زمانہ میں مسمریزم والے بھی دکھاتے ہیں۔آج کوئی معجزات کے رنگ میں نہیں مان سکتا اور پیشگوئی ہی ایک ایسا زبردست نشان ہے، جو ہر زمانہ میں قابلِ عزّت سمجھا جاتا ہے۔ مگر ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسیح کی جو پیشگوئیاں انجیل میں درج ہیں وہ ایسی ہیں کہ ان کو پڑھ کر ہنسی آتی ہے کہ قحط پڑیں گے، زلزلے آئیں گے۔ مُرغ بانگ دے گا۔ وغیرہ۔ اب ہر ایک گائوں میں جا کر دیکھو کہ ہر وقت مُرغ بانگ دیتے ہیں یا نہیں اور قحط اور زلزلے