التباس حق و باطل کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔
اور وہ نشان یہ ہیں۔ اوّل نُصُوصِ صریحہ یعنی جو معتقدات ہم رکھتے ہیں۔ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا ان کا نام و نشان خدا تعالیٰ کی کتاب میں بھی پایا جاتا ہے یا نہیں۔ اگر اس کے متعلق منقولی شہادت یعنی نصوص صریحہ قطعیّہ نہ ہوں، تو خود سوچنا ناہیئے کہ اس کو کہاں تک وقعت دی جاسکتی ہے۔ مثلاً جیسے کیمیا گر کہتا ہے کہ میں ایک ہزارکا دس ہزار کر دیتا ہوں تو کیا ضروری نہیں کہ ہمیں علم ہو کہ پہلے کتنے ایسے بزرگ گزرے ہیں۔ لیکن جب ہم اس پر غور کریں گے، تو معلوم ہو گا کہ ہزاروں نے ایسی باتوں میں آکر نُقصان اٹھایا ہے۔ ہمارے اسی علاقہ میں ایک کیمیا گر اسی طرح پر دو آدمیوں کو ایک ہی وقت میں ٹھگ کر لے گیا۔ غرض پہلا نشان نصوصِ صریحہ کا ہے۔ اس کے ذریعہ اگر ہم عیسائیوں کے عقا ئد کو پَرکھتے لگیں، تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ ترا ملمّع ہے۔ حق کی چمک اس میں نہیں ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کل بیان کیا تھا کہ تثلیث اور یسوع کی خدائی کی بابت اگر یہودیوں سے پُوچھا جاوے اور ان کی کتابوں کو ٹٹولا جاوے، تو صاف جواب ہے کہ وہ کبھی تثلیث کے قائل نہ تھے۔ اور نہ کبھی انہوں نے کسی جسمانی خدا کی بابت اپنی کتاب میں پڑھا تھا۔ جو کسی عورت کے پیٹ سے عام بچّوں کی طرح حیض کے خُون سے پرورش پاکر نو مہینے کے بعد پیدا ہونے والا ہو۔ اور انسانوں کے سارے دُکھ خسرہ چیچک وگیرہ جو انسانوں کو ہوتے ہیں اُٹھا کر آخر یہودیوں کے ہاتھ سے مارکھاتا ہوا صلیب پر چڑھایا جاوے گا اور پھر ملعُون ہو کر تین دن ہاویہ میں رہے گا۔ یا باپؔ بیٹاؔ رُوح اؔلقدس کے مجموعہ اور مرکّب خدا ہی کا ذکر اُن کی کتابوں میں کہیں ہوتا ۔ اگر ہے تو ہم عیسائیوں سے ایک عرصہ سے سوال کرتے رہے ہیں۔ وہ دکھائیں۔ بر خلاف اس کے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہودیوں نے منجملہ اور اعتراضوں کے جو اُس پر کیے۔سب سے بڑا اعتراض یہی تھا کہ یہ خدا کا بیٹا اور خدا بنتا ہے۔ اور یہ کُفر ہے۔ اگر یہودیوں نے توریت اور نبیوں کے صحیفوں میں یہ تعلیم پائی تھی کہ دنیا میں خود خدا اور اس کے بیٹے بھی ماریں کھاتے کے لیے آیا کرتے ہیں اور انھوں نے دس پانچ کو دیکھا تھا۔ تو پھر انکار کی وجہ کیا ہوسکتی تھی؟ اصل حقیقت یہی ہے کہ اس معیار پر یہ عقیدہ کبھی پُورا نہیں اُتر سکتا، اس لی کہ اس میں حقانیّت کی رُوح نہیں ہے۔
دوسرا طریق شناختِ حق اور اہلِ حق کا یہ ہے کہ عقلِ سلیم بھی ان کی مُمّک اور معاون ہو۔ عقل ایسی چیز ہے کہ اگر اسے چھوڑ دو۔ تو دین اور دُنیا دونوں کے کاموں میں فتور پیدا ہوتا ہے۔ اب عقل کے معیار پر اس کو کَسا جاوے تو وہ دُور سے ان عقائد کو ردّ کرتی ہے۔ کیا عقل کے نزدیک یہ بات قابلِ تسلیم ہوسکتی ہے کہ ایک عاجز مخلوق بھی جس میں انسانیّت کے سارے لوازم اور بشری کمزوریوں کے سارے نمونے موجود ہیں، خدا ہوسکتا ہے۔ کیا عقل اس بات کو ایک لمحہ کے لیے بھی رَوارکھ سکتی ہے کہ مخلُوق اپنے خالق