جوابات سمجھ لیں گے ۔ جو لوگ بحث ومباحثہ کرنے کے لیے بیٹھے ہیں اور تلاش حق اُن کا مقصد نہیں ہوتا ۔وہ ایک ہی جلسہ میںطے کر لینا چاہتے ہیں ۔ میں اس کو مذہبی قمار بازی کہتا ہوں ۔ جیسے قمار باز اپنی چابک دستی اور چالاکی سے ہاتھ مارنا چاہتے ہیں اور اسی طرح پر یہ لوگ کرتے ہیں۔اور ہم نے تجربے سے دیکھ لیا ہے کے اصل بات کو چھپاتے ہیں ۔اور فرضی اور خیالی باتیں پیش کرتے ہیں ۔ پس میں اس کو بہت ہی بُرا سمجھتاہو ں کے انسان مذہبی قمار بازی کے لیے دست درازاورخداکا ذرا بھی خوف اور حیانہ کرکے اپنی چالاکیوں سے کام لے ۔ یہ مذہبی قماربازی کب ہوتی ہے جب دنیا کی ہار جیت اور خیالی فتح وشکست مدِّنظر ہو اور احباب اور ہمعصروں کی نگاہ میں واہ واہ سننے اور فتحیاب کہلانے کا خیال دل میں ہو۔ یہ قمار بازی دنیا کی قماربازی سے بہت ہی بڑھ کر نقصان رساں ہے، کیونکہ اس میں تو صرف مال کا زیاں ہے، مگر اس قمار بازی میں دین اور دنیا دونوں تباہ ہو جاتے ہیں۔ اور تمام اخلاقی اور روحانی قوتیں جو انسان کو اعلیٰ درجہ کے کمالات کا وارچ بہا سکتی ہیں، ہاردی جاتی ہیں۔ اور اس متاع کے ہارنے سے جو رنج پیدا ہوتا ہے وہ ابدی ہوتا ہے۔ پس اس قمار بازی کے خیال کو کبھی پاس بھی آنے نہیں دینا ثاہیے۔ اگر مقصدِعظیم یہ ہو کہ راستبازوں کے نور سے حصّہ ملے۔ کبھی کوئی شخص اس نور کو نہیں پاسکتا اور اس متاع کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ جو فطرت سلیم اس کے پاس ہے۔ جبتک حق گوئی اور حق جوئی اور پھر قبولِ حق کے لیے ساری دنیا کو اس کے سامنے مردہ قرار نہ دے لے ا ور ان امورکے لیے خدا تعالیٰ سے ایک عہد کرے۔ جو ایسا عہد خدا تعالیٰ سے نہیں کرتا وہ خدا کو مان کر بھی دہریہّ ہے۔ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جیسے امراض کا بُحران ہو تاہے۔اسی طرح مختلف ملتوں اور مذہبوں کے بحران کے یہ ایّام ہیں۔شیطان کی بھی یہ آخری جنگ ہے۔اس لیے وہ تمام آلات حرب و ضرب لے کر حق کے مقابلہ میں نکلا ہے۔اور وہ پُورے زور اور پوری طاقت سے کوشش کرتا ہے کہ حق پر غلبہ پاوے مگر خود یُسے بھی یقینِ کامل ہے کہ اُس کی ساری کوشش بے سود اور بے فائدہ ہوگی اور بہت جلد وہ وقت آتا ہے کہ شیطان مارا جاوے گا اور ملائک کی فتح ہو گی، مگر بایں ہمہ وہ اپنی پُوری طاقت سے اس وقت میدان میں آیا ہے اور اس کے بالمقابل حق بھی ہے اور اس کے سامان اور ہتھیار بھی آسمان سے نازل ہو رہے ہیں۔ چونکہ اس وقت دونوں میدان میں ہیں۔ پس تم کو واجب ہے کہ حق کا ساتھ دو۔ حق کی شناخت کے نشان اور میں نے بارہا اس امر کو بیان کیا ہے اور اب پھر بتاتا ہوں کہ حق کی شناخت کے واسطے تین نشان ہیں۔ ان پر اگر تم اس کو جسے حق کہا جاتا ہے، پَرکھ لو گے تو تم کو شیطان دھوکا نہ دے سکے گا؛ ورنہ اس نے اپنی طرف سے