نشان ہے کہ وہ اشاعت حق سے نہیں رکتا۔اور ہمیںافسوس ہوتا ہی جب انجیل میں ایسے فقرا ت دیکھتے ہیں جن میںمسیح اپنے آپکوچھپانے اور کسی پر ظاہر نہ کرنے کی تعلیم اپنے شاگردوںکودیتا ہے مامور من اللہ میںایک شجاعت ہوتی ہے۔اس لیے وہ کبھی بھی اپنے پیغام پہنچانے اوراشا عت حق میںنہیںڈرتا ۔شہا د ت حقہ کا چھپانا سخت گناہ ہے پس میںکیو نکراس حقیقت کو چھپا سکتا ہوں ۔جو خدا نے مجھ پر کھولی ہے ۔میرے نزد یک یہ طریق بہت ہی مناسب ہے جو یہ اس طر ح پر مر تب ہو جا یا کر ے ۔آپ نے اب دوبا ر ہ سن لیا ہے ۔اس پر غور کریں اور جو کچھ آ پ کو شک با قی ہو بے شک پو چھ لیں ،،۔ مسٹر عبدالحق :میں اس پر مز ید غور کرو ں گا ،،۔ حضر ت مسیح مو عود :میںآپ کی اس با ت کو بہت پسند کرتا ہوں کہ جلد ی نہیں کی ۔آپ بے شک چار پا نچ روز تک اس پرکافی غو رکر لیں،،۔ مسٹر عبد الحق ,,۔میںنے آج ایک سوا ل قرآ ن شر یف کی ضرور ت پر سوچا تھا، مگر وہ اس تقریر میں آچکا ہے میںایک سوا ل یہ بھی پو چھنا چاہتا ہوںکہ یہ جوکہا جا تا ہے کہ انجیل میںتحریف ہو گئی ہے ۔ اگر کوئی یہ پوچھے کہ اصل کہا ں ہے تو اس کا کیا جوا ب ہے۔‘‘ حضر ت مسیح مو عو د :’’یہ سوال آپ کا ایک نیا سوا ل ہیاور پہلے سوا لو ں سے الگ ہے ۔ میںیہ چاہتا ہوں کہ تداخل نہ ہو ۔ میں اس سوا ل کا جواب بیا ن کرو ں گا ، مگر اول مناسب یہی ہے کہ آپ اپنے سوا لوںکے جوا ب پرغورکرکے اورجو کچھ ان کے متعلق پوچھنا ہوپوچھ لیں ۔ سو جب وہ طے ہو جائیں ، پھر میںآپ کے اس سوال کا جواب دوںگا ۔ مگر تداخل کو میںمناسب نہیں سمجھتا۔ جیسے تداخل طعام درست نہیں ہے ۔یعنی ایک کھانا کھایا پھر کچھ کھا لیا ۔ پھر کچھ اور ۔اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ سوُ ئہضم ہو کر ہیضہ یا قے یا کسی اور بیماری کی نوبت آئے ۔ اسی طرح تداخل کلام منع ہے ۔ تداخل کلام سے کوئی بات محفوظ نہیں رہ سکتی ۔ اور انسان اس سے کو ئی فائدہ نہیںاُٹھاسکتا ، بلکہ وہ وقت ضائع چلاجاتا ہے ۔ میری عین مراد یہی ہے کہ یہ سوالات آپ کے باترتیب ہوںاور ہر سوال کی ایک مدد رکھی جاوے اور اس کو دوسراقراردے لیا جاوے ۔اس وقت میرا مقصد یہ نہیںہے کہ میں خلط مبحث کر کے اپنا وقت ضائع کروں اور آکو فائدہ سے محروم رکھوں ، بلکہ میںچاہتا ہوںکہ آپ کو پور افائدہ پہنچائوںجو میرے امکان اور طاقت میں ہے اور اس کے لیے میری رائے میں یہی طریق مناسب ہے جو اختیار کیا گیا ہے ۔میں اس سوال کا جواب دیتے وقت آپکو بتائوں گا کہ تحریف کے خیالات شروع میں مسلمانو ںسے پیدانہیں ہوئے بلکہ انجیل کے ماننے والوں ہی کی طرف سے خیالات کی ابتداء ہوئی ہے اور میں اس کو جیسا میں نے کہا ہے اور دوسرے وقت پر رکھتا ہوں ۔جب آپ پہلے سوالوںکے