کا پتہ پا لے ہمارے لئے ایسا سچاجوش رکھنے والے تجھ پر خدا کا سلام بر تو اے مرد سلامت )
حضر ت مسیح موعو دؑ: اس پسینہ سے اس نے یہ مراد لی کہ گویا جواب نہیں آیاافسوس !آپ اس سے پوچھتے تو سہی کہ پھر وہ یہاں رہ کر نمازیں کیوںپڑھتا تھا اور کیا اس نے نہیں کہا تھا کہ میری تسلی ہو گئی میرے سامنے ہوتو میں اس حلف دے کر پوچھوں سامنے ہونے سے کچھ تو شرم آجاتی ہے۔
منشی عبدالحق :’’ میں نے نمازوں کا حال پوچھا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ ہاں میں پڑھا کرتا تھا اور آخر میں نے کہہ دیا تھا کہ میں کسی سرد مقام پر جا کر فیصلہ کروں گا اور یہ بھی مسٹر سراج الدین نے کہا تھا کہ مرزا صاحب شہرت پسند ہیں، میں نے چار سوال پوچھے تھے ان کا جواب چھاپ دیا۔‘‘
حضر ت اقدس :’’ اس میں شہرت پسندی کی کوئی بات نہیں ہم حق کو کیوں چھپاتے اگر چھپاتے تو گنہ گار ٹھہرتے اور معصیت ہوتی۔ خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے تو پھر میں حق کا اظہار کروں گااور جو کام میرے سپرد ہوا ہے اسے مخلوق کو پہنچائوں گا اور اس بات کی مجھے کچھ پروا نہیں کہ کوئی شہرت پسند کہے یا اور کچھ۔آپ ان کو پھر خط لکھیں کہ وہ یہاں کچھ دن اور رہ جاویں۔‘‘
الغرض ان باتوں میں آپ مکان کے قریب پہنچ گئے۔ اور اس وقت حضرت اقدس نے منشی عبدالحق صاحب کو مخاطب کر کے یہ فرمایا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان وہی آرام پا سکتا ہے جو بے تکلف ہے پس آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بلا تکلف کہہ دیں پھر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو یہ ہمارے مہمان ہیں اور تم میں سے ہر ایک کو مناسب ہے کہ پورے اخلاق سے پیش آوے اور کوشش کرتا رہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو یہ کہہ کر آپ گھر میں تشریف لے گئے۔‘‘۱؎
۲۴؍دسمبر۱۹۰۱ء
مامور من اللہ کا نشان
حضرت مسیح موعود:’’ما مُور ان امُور کی جواس پر کھولے جاتے ہیں،اشاعت نہ کرے تو میں سچ کہتا ہوں کہ وہ مخلوق پر ظلم کرتا ہے اور خو د اللہ تعالی کے سپرد کردہ فرض کو انجام نہیں دیتا مامور کا ایک یہ بھی