لغا ت نکال کر دیکھ لو کہ ملعو ن وہ شخص ہوتا ہے جس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہو ۔اوروہ خداسے دور ہو اب عیسائیوںنے بلاتفا ق اپنے عقیدہ میں داخل کر لیا ہے کہ مسیح ہمارے بدلے لعنتی ہوا چنا نچہ تین دن کے لیے اسے ہاویہ میں بھی رکھتے ہیں اب یہ لعنتی قر بانی جو ان کے عقیدہ کے موافق ہوئی ۔نجا ت سے کیا تعلق ہے غر ض جس قدر اس پر غور کر تے جائیں گے ۔اسی قدر اس حقیقت کھلتی جائے ہی ۔میںآپ کو بتا تا ہوں کہ اصل میں مسیح کے متعلق عیسائیوںاور یہودیوںدو نو ںنے افرا ط وتفر یط سے کا م لیا ہے عیسائیو ں نے تو یہاں تک افراط کی ایک عاجز انسا ن کو جو ایک ضعیفہ عورت کے پیٹ سے عام آدمیوں کی طرح پیدا ہوا خدا بنا لیا۔اور پھر گرایا بھی تو یہاں تک کہ اسے ملعون بنایا اور ہاویہ میں گرایا۔یہودیوں نے تفریط کی یہاں تک کہ معاذ اللہ اسے ولد الزنا قرار دیا او ربعض انگریزوں نے بھی اسے تسلیم کر لیا اور سارا الزام حضرت مریم پر لگایا مگر قرآن شریف نے آکر دونوں قوموں کی غلطیوں کی اصلاح کی عیسائیوں کو بھی بتایا کہ وہ خدا کا رسول تھا اور خدا نہ تھااور وہ ملعون نہ تھا مرفوع تھا اور یہودیوں کو بتایا کہ وہ ولدالزنا نہ تھا بلکہ مریم صدیقہ عورت تھی أ حصنت فرجھا کی وجہ سے اس میں نفخ روح ہوا تھا یہی افراط و تفریط اس زمانہ میں بھی ہوئی ہے اور خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ میں ان کی اصل عزت کو قائم کروں مسلمان ناواقفی سے انہیں انسانی صفات سے بڑھ کر قرار دینے میں غلطی کرتے ہیں اور ان کی موت کے راز کی حقیقت سے ناواقف ہیں عیسائی مصلوب قرار دے کر ملعون بناتے ہیں پس اب وقت آیا ہے کہ مسیح کے سر پر سے وہ الزام دور کئے جاویں جو ایک بار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور کئے تھے پس اسلام کا کس قدر احسان مسیح پر ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ ان باتوں پر پورا غور کر لیں گے میں آپ کو بار بار یہی کہتا ہوں کہ جب تک آپ کی سمجھ میں کوئی بات نہ آوے اسے آپ بار بار پوچھیں؛ورنہ یہ اچھا طریق نہیںہے کہ ایک بات کو آپ سمجھیں نہیں اور کہہ دیںکہ ہاں سمجھ لیا ہے اس کا نتیجہ برا ہوتا ہے سراج الدین جو یہاں آیا تھا اس نے ایسا ہی کیا اور کچھ فائدہ نہ اٹھایا اس نے آپ کو کچھ کہا تھا؟ منشی عبدالحق صاحب:’’ہاں مجھے منع کرتے تھے کہ وہاں مت جائو کچھ ضرورت نہیں ہے جب ہم نے ایک سچائی کو پا لیاپھر کیا ضرورت ہے کہ اور تلاش کرتے پھریں اور یہ بھی انہوں نے کہا تھا کہ جب میں آیا تھا تو وہ مجھے تین میل تک چھوڑنے آئے تھے اور پسینہ آیا ہوا تھا۔‘‘ (ایدیٹر) سلیم الفطرت لوگ حضرت مسیح موعودؑ کی شفقت اور ہمدردی پر غور کریں اور اس جوش کا اندازہ کریں جو اس فطرت میں کسی کی روح کو بچا لینے کیلئے ہے کیا تین میل تک جانا محض ہمدردی ہی کے لئے نہ تھاورنہ میاں سراج الدین سے کیا غرض تھی اگر فطرت سلیم ہو تو آپ اس جوش ہمدردی ہی سے حق