ضرور پا لیتا ہے لیکن اگر وہ اپنے دل میں پہلے سے ایک بات کا فیصلہ کر لیتا ہے اور ضد اور تعصب کے حلقوں میں گرفتار دل لے کر آتا ہے توا س کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اس کا معاندانہ جوش بڑھ کر فطرت کے انوار کو دبا لیتا ہے اور دل سیاہ ہو جاتا ہے اور پھر وہ حق و باطل میں امتیاز کرنے کی توفیق نہیں پاتا۔پس خدا تعالی سے پاکیزگی اور ہدایت کے پانے کے لئے خود بھی اپنے اندر پاکیزگی کو پیدا کرنا چاہئے اور وہ یہی ہے کہ انسان بخل اور تعصب کو چھوڑ دے اور اپنے نفس کو ہر گز دھوکا نہ دے ۔یہ بالکل سچ ہے کہ جو شخض تلاش حق کا دعوی کر کے نکلتا ہے اور پھر اپنی جگہ پہلے ہی کسی مذہب کے اصول کو فیصلہ کر کے قطعی بھی قرار دے لیتا ہے ،و دنیا کا طالب ہوتا ہے جو دنیاکی فتح و شکست پر مرتا ہے میں اس بات کا قائل نہیں ہو سکتا کہ وہ خدا کو مانتا ہے ۔ نہیں میرے نزدیک وہ دہریہ ہے ۔پاک دل جو کسی زجر و توبیخ کی پرواہ نہیں کرتا اور جو اقرار کرلینے میں ندامت اور شرمساری نہیں پاتا وہی ہوتا ہے جو حق کو پالیتا ہے ۔ ایسے ہی دل پر خدا کے انوار نازل ہوتے ہیں۔ یاد رکھو خدا تعالی ہر گز ایسے شخص کو ضائع نہیں کرتا جو اس کی جستجو میں قدم رکھتا ہے ۔ وہ یقینا ہے او رجیسے ہمیشہ سے اس نے اناالموجود کہا ہے اب بھی کہتا ہے ۔
جس طرح پر حضرت مسیح پر وحی ہوتی تھی اس طرح اب بھی ہوتی ہے میں سچ کہتا ہوں کہ یہ نرادعوی نہیں اس کے ساتھ روشن دلائل ہیں کہ پہلے کیا تھا جو اب نہیں اب بھی وہی خدا ہے جو سدا کلام کرتا چلا آیا ہے اس نے اب بھی دنیا کو اپنے کلام سے منور کیا ہے ۔‘‘
کفارہ
ایک اور ضر ور ی با ت ہے جومیں کہنی چاہتا ہوں اور کفا رہ کے متعلق ہے کفارہ کی اصل غر ض تو یہی بتائی جاتی ہے کہ نجا ت حاصل ہو اور نجا ت دوسر ے الفا ظ میں گناہ کے زند گی اور اس کی موت سے بچ جانے کا نام ہے مگر میں اپ ہی سے پوچھتا ہوں کہ خداکے لیے انصا ف کر کے بتائو کہ گناہ کو کسی کی خود کشی سے فلسفیا نہ طور پر کیا تعلق ہے۔اگر مسیح نے نجات کامفہو م یہی سمجھا اور گناہوں سے بچنے کایہی طریق انہیں سوجھا ، اتو پھر نعو ذ باللہ ہم ایسے آدمی کو تورسو ل بھی نہیں ما ن سکتے کیونکہ اس سے گناہ رک نہیں سکتے ۔ آپکو یور پ کے حالا ت اور لنڈن اور پیر س کے واقعا ت اچھی طر ح معلوم ہو ں گے ۔بتاؤ کون سا پہلو گنا ہ کا ہے جو نہیں ہو تا ۔سب سے بڑھ کرزنا تورا ت میںلکھا ہے مگر دیکھو کہ سیلا ب کس زورسے ان قوموں میں آیا ہے جن کا یقین ہے کہ مسیح ہما رے لیے مرا ۔خو د کشی کے طریق سے بہتر یہی تھاکہ مسیح دعا کر تا کہ اور بھی عمرملے تا کہ وہ نصیحت اور وعظ ہی کے زریعے لوگوںکو فائدہ پہنچاتا۔مگر یہ سوجھی تو کیا سوجھی ؟۔
اسکے علا وہ ایک اور با ت بھی ہے جو میں نے پیش کی تھی اور اب تک کسی عیسائی نے اس کا جواب نہیں دیا اور وہ یہ ہے کہ مسیح ہما ر ے بدلے لعنتی ہوا ۔اب لعنت کے معنوں کے لیے عبرا نی یا عربی کے