اتار لیا گیاپھر دو چور جو مسیح کے ساتھ صلیب پر لٹکائے گئے تھے ان کی ہڈیاں توڑی گئیں مگر مسیح کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں۔
پھر مسیح کی لا ش ایک ایسے آدمی کے سپرد کر دی گئی جو مسیح کا شا گر د تھا اور اصل تو یہ ہے کہ خود پیلاطوس اور اس کی بیوی بھی اس کی مرید تھی چنانچہ پلاطو س کو عیسائی شہدوںمیں لکھاہے اور اس کی بیوی کوولیہ قرار دیا گیا اور ان سب سے بڑھ کرمرہم عیسیٰ کا نسخہ ہے جس کو مسلما ن، یہود ی ،رومی اور مجوسی طبیبوں نے بلا اتفاق لکھا ہے کہ مسیح کے زخموں کے لیے تیار ہوا تھا اور اس نام مر ہم عیسیٰ مرہم حواریین اور مر ہم رسل اور مرہم شلیخہ وغیر ہ بھی رکھا ۔کم از کم ہزا ر کتاب میں یہ نسخہ مو جو د ہے اور یہ کوئی عیسائی ثا بت نہیں کر سکتا کہ صلیبی زخموں کے سوا اور بھی کوئی زخم مسیح کولگے تھے ۔اور اس وقت حواری بھی موجو د تھے ۔اب بتا ئو کہ کیا یہ تما ماسبا ب اگر ایک جا جمع کیے جاویں ، تو صا ف شہادت نہیں دیتے کہ صلیب پر زند ہ بچ کر اتر آیا تھا۔
اس پر اس وقت ہمیں کوئی لمبی بحث نہیں کرنی ہے یہودیوں کے جو فرقے متفرق ہو کر افغانستان یا کشمیر میں آگئے تھے وہ ان کی تلاش میں ادھر چلے آئے۔ اور پھر آخر کشمیر ہی میں انہوںنے وفات پائی۔اور یہ بات انگریز محققوں نے بھی مان لی ہے کہ کشمیری دراصل بنی اسرائیل ہیں چنانچہ برنئیر نے اپنے سفر نامے میں یہ یہی لکھا ہے اب جبکہ یہ ثابت ہوتا ہے اور واقعات صحیحہ کی بناء پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرے بلکہ زندہ اتر آئے ہیں تو کفارہ کا کیا باقی رہ جاتا ہے۔
پھر سب سے عجیب تر تو یہ بات ہے کہ عیسائی جس عورت کی شہادت سے مسیح کو آسمان پر چڑھاتے ہیں وہ خود ایک اچھے اور شریف چال چلن کی عورت نہ تھی۔
( الحکم جلد۶ نمبر ۳ صفحہ ۳۔۴ مورخہ۲۴؍جنوری۱۹۰۲ء)
تلاش حق کے آداب
’’ یاد رکھو کہ ایک فعل انسان کی طرف سے اولا سرزد ہوتا ہے پھراس میں جو اثر یا خاصیت مخفی ہو۔خدا تعالی کا ایک فعل اس پر مترتب ہو کر اسے ظاہر کر دیتا ہے مثلا جب ہم اپنے گھر کی کھڑکی کوبند کر لیتے ہیں تو یہ ہمارا فعل ہے اور اس پر خدا تعالی کا فعل یہ سرزد ہوتا ہے کہ اس کوٹھڑی میں روشنی اور ہوا کی آمدورفت بند ہو کر تاریکی ہو جائے گی پس یہ ایک عاد ت اللہ قدیم سے اسی طرح پر چلی آتی ہے۔اور اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا ہے کہ انسانی فعل پر خدا کی طرف سے یہ سرزد ہوتا ہے اسی طرح پر جیسے یہ نظام ظاہری ہے اندرونی انتظام میں بھی یہی قانون ہے جو شخص صاف دل ہو کر تلاش حق کرتا ہے اور اگر کچھ نہیں تو کم از کم سلب عقائد ہی کی حالت میں آتا ہے تو وہ سچائی کو