و خطرہ نہیں ہوتا۔
کسر صلیب
عیسائی مذہب کے استیصال کے لئے ہمارے پاس تو ایک دریا ہے اب وقت آگیا ہے کہ وہ بت جو صلیب کا بنایا گیا ہے گر پڑے اور اصل بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالی اگر مجھے مبعوث نہ بھی فرماتا تب بھی زمانہ نے ایسے حالات اور اسباب پیدا کر دئیے تھے کہ عیسائیت کا پول کھل جاتا۔ کیونکہ خدا تعالی کی غیرت اور جلال کے یہ صریح خلاف ہے کہ ایک عورت کا بچہ خدا بنایا جاتا جوا نسانی حوائج اور لوازم بشریہ سے کچھ بھی استثناء اپنے اندر نہیں رکھتا۔
میں نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں نے کامل تحقیقات کے ساتھ یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ مسیح صلیب پر مر گیا ہے اصل بات یہ ہے کہ و ہ صلیب سے زندہ اتارا گیا اور ا ور وہاں سے بچ کر وہ کشمیر چلا آیا جہاں اس نے ۱۲۰ سال کی عمر میں وفات پائی ۔اور تک اس کی قبر خانیارؔ کے محلہ میں یوز آسفؔ یا شہزادہ نبی کے نام سے مشہور ہے ۔
اور یہ بات ایسی نہیں ہے جو محکم اور مستحکم دلائل کی بناء پرنہ ہو بلکہ صلیب کے جو واقعات انجیل میں لکھے ہیں خود انہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا سب سے اول یہ کہ خود مسیح نے اپنی مثال یونس سے دی ہے کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ داخل ہوئے تھے یا مر کر او رپھر یہ کہ پیلاطوس کی بیوی نے ایک ہولناک خواب دیکھا تھا جس کی اطلاع پیلاطوس کو بھی اس نے کر دی او ر وہ اس فکر میںہو گیا کہ اس کو بچایا جاوے اور اسی لیے پیلاطوس نے مختلف پیرایوں میں مسیح کو چھوڑ دینے کی کوشش کی اور آخر کار اپنے ہاتھدھوکر ثابت کیا کہ میں اس سے بری ہوں۔اورپھر جب یہودی کسی طرح ماننے والے نظر نہ آئے تو یہ کوشس کی گئی کہ جمعہ کے دن بعد عصر آپ کو صلیب دی گئی اور چونکہ صلیب پر بھوک پیاس اور دھوپ وغیرہ کی شدت سے کئی دن رہ کر مصلوب انسان مر جایا کرتا تھا وہ موقعہ مسیح کو پیش نہ آیا کیونکہ یہ کسی طرح نہیں ہو سکتا تھا کہ جمعہ کے دن غروب ہونے سے پہلے اسے صلیب پر سے نہ اتار لیا جاتا کیونکہ یہودیوں کی شریعت کی رو سے یہ سخت گناہ تھا کہ کوئی شخص سبت یا سبت سے پہل رات پر صلیب چڑھا دیا گیا تھا اس ل ئے بعض واقعات آندھی وغیرہ کے پیش آجانے سے فی الفور