نہیں اگر تثلیث واقعی مدار نجات تھی تو کیا سارے کے سارے فرقے ہی اس کو فراموش کر دیتے اور ایک آدھ فرقہ بھی اس پر قائم نہ رہتا۔ کیا یہ تعجب خیز امر نہ ہو گا جکہ ایک عظیم الشان قوم جس میں ہزاروں فاضل ہر زمانہ میں موجود رہے اور برابر مسیح علیہ السلام کے وقت تک جن میں نبی آتے رہے ان کو ایسی تعلیم سے بالکل بے خبری ہو جاوے جو موسیٰ علیہ السلام کی معرفت انہیں ملی ہو اور مدار نجات بھی وہی ہو یہ بالکل خلاف قیاس اور بے ہودہ بات ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ خود تراشیدہ عقیدہ ہے نبیوں کے صحیفوں میں اس کا کوئی پتہ نہیں اور ہونا بھی نہیں چاہئے کیونکہ یہ حق کے خلاف ہے پس یہودیوں میں توحید پر اتفاق ہونا تثلیث پر کسی کا ایک بھی قائم نہ ہونا صریح دلیل اس امر کی ہے کہ یہ باطل ہے ؛ حالانکہ خود عیسائیوں کے مختلف فرقوں میں بھی تثلیث کے متعلق ہمیشہ سے اختلاف چلا آ رہا ہے اور یونی ٹیرین فرقہ اب تک موجود ہے میں نے ایک یہودی سے دریافت کیا تھا کہ توریت میں کہیں تثلیث کا بھی ذکر ہے اور یا تمہارے تعامل میں کہیں اس کا بھی پتہ لگتا ہے اس نے صاف اقرار کیا کہ ہرگز نہیں ہماری توحید وہی ہے جو قرآن مجید میں ہے اور کوئی فرقہ ہمارا تثلیث کا قائل نہیں اس نے یہ کہا کہ تثلیث پر مدار نجات ہوتا تو ہمیں جو توریت کے حکمو ں کو چوکھٹوں اور آستینوں پر لکھنے کا حکم تھا کہیں تثلیث کے لکھنے کا بھی ہوتا۔پھر دوسری دلیل اس کے ابطال پر یہ ہے کہ باطنی شریعت میں اس کے لئے کوئی نمونہ نہیں ہے باطنی شریعت بجائے خود توحید چاہتی ہے ۔ پادری فنڈر صاحب نے اپنی کتابوں میں اقرار کر لیا ہے کہ اگر کوئی شخص کیس ایسے جزیرہ میں رہتا ہو جہاں تثلیث نہیں پہنچی اس سے توحید کا ہی مطالبہ ہو گا۔نہ تثلیث کا پس اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ باطنی شریعت توحید کو چاہتی ہے نہ تثلیث کو ۔ کیونکہ تثلیث اگر فطرت میں ہوتی تو سوال اس کا ہونا چاہئے تھا۔ پھر تیسری دلیل اس کے ابطال پر یہ ہے کہ جس قدر عناصر خدا تعالی نے بنائے ہیں وہ سب کروی ہیں پانی کا قطرہ دیکھو اجرام سماوی کو دیکھو زمین کو دیکھو اس لئے کرویت میں ایک وحدت ہوتی ہے پس اگر خدا میں تثلیث تھی تو چاہئیے تھی کہ مثلث نما اشیاء ہوتیں۔ ان سب باتوں کے علاوہ بار ثبوت مدعی کے ذمہ ہے جو تثلیث کا قائل ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے دلائل دے ہم کچھ توحید کے متعلق یہودیوں کا تعامل باوجود اختلاف فرقوں کے باطنی شریعت میں اس کا اثرہونا اور قانون قدرت میں اس کی نظیر ملنا بتاتے ہیں ان پر غور کرنے کے بعد اگر کوئی تقوی سے کام لے تو وہ سمجھ لے گا کہ تثلیث پر جس قدر زور دیا گیا ہے وہ صریح ظلم ہے ۔ انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ کبھی غیر تسلی کی راہ اختیار نہیں کرتا اس لئے پگڈنڈیوں کی بجائے شاہراہ پر چلنے والے سب سے زیادہ ہوتے ہیں اور ا س پر چلنے والوں کے لئے کسی قسم کا خوف