موجود تھے ،مگر جیسے اس وقت کو انھوں الحکم جلد ۶ نمبر ۲تا ۶ صفحہ ۴تا ۲ پرچہ ۱۷جنوری ۱۹۰۲؁ء نے کھودیا ۔ آج بھی یہ مسیح موعود کوقبول نہیںکرتے ، حالانکہ ایلیاؔکا قصّہ اُن میں موجودہے اور اسی پر مسیح کی صداقت کا سارا معیار ہے ۔ اگر مسیح واقع مُردوں کو زندہ کرتے تھے ۔تو کیو ںپھونک مار کر ایلیاؔکو زندہ نہ کر دیا،یہود ابتلاسے بچ جاتے اور خود مسیح کو بھی ان تکالیف اور مشکلات کا سامنا نہ ہوتا ،جو ایلیاؔکی تاویل سے پیش آئیں۔ایک یہودی کی کتاب میرے پاس موجود ہے ۔وہ اس میں صاف لکھتا ہے کہ اگر خداتعالیٰ ہم سے مسیح کے انکارکا سوال کرے گا،تو ہم ملا کی نبی کی کتاب سامنے رکھ دیںگے۔کہ کیا اس میں نہیں لکھا کہ مسیح سے پہلے ایلیاؔ آئے گا ۔اس میں یہ کہاں ہے کہ یوحناؔ آئے گا۔اس پر اس قسم کی جزئیات کویہ لوگ بد نما صورت میںپیش کر کہ دھوکا دیتے ہیں ۔ آپ اپنے اعتراضوں کے انتخاب میں ان اُمور کو مدِنظر رکھیں جو میں نے آپ کو بتادئیے ہیں ۔ دین کا معاملہ بہت بڑا اہم اور نازک معاملہ ہے اس میں بہت بڑی فکر اور غور کی ضرورت ہے ۔اس میں وہ پہلو اختیار کرنا چاہئے، جو مشترک اُمّت کاہے ۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہے کوئی ایسی بات قابل تسلیم نہیںہو سکتی جس کے نظائر موجود نہ ہو ں ۔ مثلاًایک شخص کہے کے ایک صندوق میں ایک ہزار روپیہ رکھاتھا اور وہ جادو کے ذریعہ ہوا ہو کر اُڑگیا ، تو اُسے کو ن مانے گا ۔ اسی طرح پر عیسائیوں کے معتقدات کا حال ہے ۔ آپ اپنے اعتراض مرتب کر کہ پیش کریں اور انشاء اللہ ہم جواب دیں گے ۔‘‘ تثلیث اور کفّارہ منشی عبدالحق صاحب:’’اگرآپ تثلیث اور کفارہ کو توڑ کر دکھا دیں، تو میں شاید اور کچھ نہ پوچھوں گا ۔‘‘ حضرت مسیح موعوؑد:’’تثلیث اور کفارہ کی تردید کے دلائل تو ہم انشاء اللہ اتنے بیان کریںگے کہ جو ان کے ابطال کے لیے کافی سے بڑھ کر ہوں گے ، مگر میری رائے میں جو ترتیب میںنے آپ کو اشارہ کی ہے اس پر چلنے سے بہت بڑافائدہ ہوگا ۔ اس وقت میںخلط نہیں کرناچاہتا ، لیکن میں مختصر اور اشارے کے طور پر اتناکہناضروری سمجھتاہوںکہ اس وقت تین قومیںیہود ،مسلمان اور عیسائی موجودہیں ۔ ان میںسے یہود اور مسلمان بالاتفاق توحید پر ایمان لاتے ہیں ۔لیکن عیسائی تثلیث کے قائل ہیں ۔ اب ہم عیسائیوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر تثلیث تعلیم ِحق تھی اور نجات کایہی اصل ذریعہ تھاتو پھر کیا اندھیرا مچاہوا ہے کہ تورایت میں اس تعلیم کا کوئی نشان نہیںملتا۔ یہودیوںکے اظہار لے کر دیکھ لو ۔اس کے سواایک اور امر قابل ِغور ہے کے یہودیوں کے مختلف فرقے ہیں اور بہت سی باتوں میں ان میں باہم اختلاف ہے، لیکن توحید کے اقراس میں ذرا بھی اختلاف