شاگردوں کوحکم تھا کہ کپڑے بیچ کر تلواریںخریدیں ۔ یہ بالکل سچّی بات ہے کہ قرآن شریف ہماری رہنمائی نہ کرتا،تو ان نبیوں پر سے ایما اُٹھ جاتا ۔ قرآن شریف کا احسان ہے تمام نبیوںپڑادرمحمدﷺ کا احسان ہے کہ اُنہوں نے آکر ان سب کو اس الزام سے بَری کر دکھایا ۔
قرآن شریف کو خوب غور سے پڑھو ،توصاف معلوم ہو جائے گا کے اس کی یہی تعلیم ہے کہ کسی سے تعرضن کرو ۔جنھوںنے سبقت نہیںکی اُن سے احسان کرو اور ابتداء کرنے والوںکرنے والوں اور ظالموں کے مقابلہ میں دفاع کا لحاظ رکھو ، حد سے نہ بڑھو۔ اسلام کی ابتداء میں ایسی مشکلات درپیش تھیں کہ اِن کی نظیر نہیں ملتی ۔ ایک کے مسلمان ہونے پر مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں اور ہزاروں فتنے بپاہوتے تھے اورفتنہ توقتل سے بھی بڑھ کر ہے پس امن عامہّ کے قیام کے لیے مقابلہ کرنا پڑا ۔ اگر ہندواس پر اعتراض کرتے تو کچھ تعجّب اور افسوس کی جا نہ تھی ، مگر خودجن کے گھر میں اس سے بڑھ کر اعتراض آتا ہے ۔اُن کواعتراض کرتے ہوئے دیکھ کر تعّجب اور افسوس ہوتاہے ۔ عیسائیوں نے اس قسم کے اعتراض میں بڑا ظلم کیا ہے ۔کیا اِن میں ایسا ہی ایمان ہے ۔پھر منجلہ اور جزئیات کے غلامی کے مسئلہ پر اعتراض کرتے ہیں ۔ حالانکہ کے قرآن شریف نے غلاموں کے آذاد کرنے کی تعلیم دی ہے اور تاکید کی ہے اور جو اور جو کسی کتا ب میں نہیں ہے ۔ اس قسم کے جُزئیات کو یہ لوگ محل اعترا ض ٹھہر ا کر ناواقف لوگ اورآزاد طبع نو جوا نوں کے سامنے پیش کر تے ہیں ۔پس آپکو منا سب ہے کہ آپ اعتراض کرتے وقت اس امر کابڑا بھاری لحا ظ کریں کہ اسے گناہ اور محل اعترا ض ٹھہرائیں جو خد ا نے گنا ہ قرار د یا ہو، نہ وہ جو کہ پادری تجو یزکر یں ۔ میںسولہ سترہ سال کی عمر سے ان سے ملتا تھا ۔مگر اس نور کی وجہ سے جو خدا نے مجھے دیا تھا میں ہمیشہ سمجھ لیتا تھا کہ یہ دھو کا دیتے ہیں ۔،،
تعدّدِادوج
اسی طرح پر تعدّد ازدواج کے مسئلہ پر اعتراض کر دیتے ہیں ۔ مگر مجھے سخت افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ اِن نادانو ں نے یہ اعتراض کرتے وقت اس بات پر ذرا بھی خیال نہیں کہ اس کا اثر خود اُن کے خداوند پر کیا پڑتا ہے۔مجھے سخت رنج آتاہے جب میںدیکھتاہوں کہ پادریوں کے اس اعتراض نے حضرت عیسیٰ ؐ پر سخت حملہ کیا ہے۔کیوںکہ جس کہ گھر میںحضرت مریم گئی تھیں۔اس کے پہلے بیوی تھی ۔ پھر یہ اولاد کیسی قرار دی جائے گی۔علاوہ ازیں جبکہ مریم نے اور اس کی ماںنے یہ عہد خدا کہ حضور کیا ہوا تھا ۔کہ اس کا نکا ح نہ کروںگی پھر وہ کیا آفت اور مشکل پیش آئی تھی جو نکاح کر دیا ۔ بہتر ہوتاکہ روح القدس کابچہّ مقدس ہیکل میں ہی جنتی ۔ بڑے افسوس کہنا پڑتا ہے کے انھوںنے اپنے گھر میںنگاہ نہیںکی ۔ورنہ اس قوم کا فرض تھا کہ سب سے پہلے آنحضرت ﷺکے قبول کرنے والے یہی ہوتے ، کیونکہ ان کے ہاں نظائر