وہ سختیاںور تکلیفیں دیکھی تھیں جو پہلے کسی نے نہ دیکھی تھیں ، پھر ان دفاعی جنگوںمیں بھی بچوں کو قتل نہ کر نے ، عورتوں اور بوڑھوں کو نہ مارنے، راہبوں سے تعلق نہ رکھنے اور کھیتوں اور ثمر دار درختوں کو نہ جلانے اور عبادت گاہوں کے مسمار نہ کرنے کا حکم دیا جاتا تھا ۔ اب مقابلہ کر کے دیکھ لو کس کاپلہ بھاری ہے ۔ غرض یہ بیہودہ اعتراض ہیں ۔ اگر انسان فطرت سلیمہ رکھتاہو تو وہ مقابلہ کر کہ خود حق پاسکتاہے کیا موسیٰ کے زمانہ اور خدا تھا اور محُمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کوئی اور ۔ اسرئیلی نبیوں کے زمانہ جیسے شریر اپنی شرارتوں سے بازنہ آتے تھے ۔اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی میںحد سے نکل گئے۔ پس اس خدانے جو رؤوفُ و رحیم بھی ہے ۔ پھر شریرو ں کے لیے اس میں غضب بھی ہے ، اُن کواِن جنگوں کے ذریعے جوخود اُنھو ںنے ہی پیدا کی تھیں ۔سزادے دی ۔ لوط کی قوم سے کیا سلوک ہوا ،نوح کے مخالفوں کا کیا انجام ہوا ۔ پھر مکّہ والوںکو اگر اس رنگ میں سزا دی ، تو کیوںاعتراض کرتے ہو ۔کیا کوئی عذاب مخصُوص ہے کے طا عون ہی ہو یاپتھر برسائے جائیں ۔ خداجس طرح چاہے عذاب دے دے ۔
سُنّتِ قدیمہ اسی طرح پر جاری ہے ۔ اگر کوئی ناعاقبت اندیش اعتراض کرے۔ تواُسے موسیٰ کے زمانہ اور جنگوں پر اعتراض کا موقعہ مل سکتا ہے ۔جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کوئی رعایت روانہیں رکھی گئی ۔ نبی کریم کے زمانہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا ۔ آجکل عقل کا زمانہ ہے اور اب یہ اعتراض کوئی وقعت نہیں رکھ سکتے ، کیو نکہ جب کوئی مذہب سے الگ ہو کر دیکھے گا ، تو اُسے صاف نظر آجائے گاکہ اسلامی جنگوں میں اوّل سے آخر تک دفاعی رنگ مقصُود ہے اور ہر قسم کی رعائتیں روا رکھی ہیں ، جو موسیٰ ؑور یسُوع کی لڑائیوں میں نہیں ہیں ۔ایک آریہ کی کتاب میری نظر سے گذری ۔ اس نے موُسوی لڑائیوں پر بڑے اعتراض کیے ہیں ، مگر اسلامی جنگوں پر اسے کوئی موقعہ نہیں ملا ۔ مجھ سے جب کوئی آریہ یا ہندُو اسلامی جنگوں کی نسبت دریافت کرتا ہے ۔تواُسے میں نرمی اور ملاطفت سے یہی سمجھاتاہوں کہ جو مارے گئے وُہ اپنی ہی تلوارسے مارے گئے ۔جب اُن کے مظالم کی انتہاہوگئی توآخر اُن کو سزادی گئی اور ان کے حملوںکو روکاگیا ۔
مجھے پادریوںکے سمجھانے اور اُن سے سمجھنے والوںپر سخت افسوس ہے کہ وہ اپنے گھر میں موسیٰ ؑکی لڑائیوں پر توغور نہیںکرتے اور اسلامی جنگوں پر اعتراض شروع کر دیتے ہیں اور سمجھنے والے اپنی سادہ لوحی سے اُسے مان لیتے ہیں ۔ اگر غور کیا جاوے ، توموسوی جنگوں کااعتراض حضرت مسیح ؐپر بھی آتاہے ۔کیونکہ وہ توریت کو مانتے تھے اور حضرت موسیٰ کو خداکا نبی تسلیم کرتے تھے ۔ اگر وہ اِن جنگوں اور ان بچوّں اور عورتوں کے قتل پر راضی نہ تھے ، تو اُنھوں نے اُسے کیوں مانا۔گویا وہ لڑائیاںخود مسیح نے کیں اور اِن بچّون اور عورتوں کو خود مسیح نے ہی قتل کیا۔
اور اصل یہ ہے کے خود مسیح علیہ السلام کو لڑائیوں کا موقعہ ہی نہ ملا ، ورنہ وہ کم نہ تھے انہوںنے تو اپنے