مورد ِاعتراض ٹھہر جاتے ہیں ، کیونکہ ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلامی جنگ بالکل دفاعی جنگ تھے ۔ اور ان میںوہ شدّتاواور سخت گیری ہر گزنہ تھی ، جو موسیٰ اور یسوع کے جنگوںمیں پائی جاتی ہے ۔ اگر وہ یہ کہیں کے موسیٰ اور یسوع کی لڑائیا ں عذاب الٰہی کے رنگ میں تھیں ۔تو ہم کہتے ہیں کہ اسلامی جنگوں کو کیوں عذاب ِالٰہی کی صورت میں تسلیم نہیںکرتے ۔ موسوی جنگوں کو کیا ترجیح ہے ۔ بلکہ ان اسلامی جنگوں میں تو موسوی لڑائیوں کے مقابلے میں تو بڑی بڑی رعایتیں دی گئی ہیں اصل بات تو یہی ہے کہ چونکہ وہ لوگ نوامیس الٰہیہ سے ناواقف تھے ،اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر موسیٰ علیہ السّلام کے مخالفو ں کہ مقابلہ میں بہت بڑا رحم فرمایا،کیونکہ وہ بڑاغفور رحیم ہے ۔ پھر اسلامی جنگوںمیں موسوی جنگوںکے مقابلہ میں یہ بڑی خصوصیّت ہے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپؐکے خادموں نے مکّہ والوں نے برابر تیرہ سال تک خطرناک ایذائیں اور تکلیفیں دیں اور طرح طرح کے دکھ اُن ظالموںنے دئیے ۔ چناچہ ان میں سے کئی قتل کئے گئے اور بعض بڑے بڑے عذابوں سے مارے گئے :چنانچہ تاریخ پڑھنے والے پر یہ امر مخفی نہیں ہے کہ بیچاری عورتوں کو سخت شرمناک ایذائوں کے ساتھ مار دیا ۔ یہاں تک کے ایک عورت کو دو اُونٹوں سے باندھ دیا اور پھران کو مختلف جہات میں دوڑا دیا اور اس بیچاری عورت کو چیر ڈالا اس قسم کی ایذارسانیو ں اور تکلیفوں کو برابرتیرہ سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی پاک جماعت نے بڑے صبر اور حوصلہ کہ ساتھ برداشت کیا ۔ اس پر بھی انھوں نے اپنے ظُلم کونہ روکا اور آخر کار خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ کیا گیا ۔ اور جب آپ ؐ نے خداتعالیٰ سے اُن کی شرارت کی اطلاع پاکر مکّہ سے مدینہ کو ،ہجرت کی ۔ پھر بھی انھوں نے تعاقب اور آخرجب یہ لوگ پھر مدینہ پر چڑ ھائی کر کے گئے ،تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے حملہ کو روکنے کا حکم دیا ، کیونکہ اب وہ وقت آگیا تھا اہل مکّہ اپنی شرارتوںاور شوخیوں کی پاداش میںعذابِ الٰہی کا مزہ چکھیں ،چناچہ خداتعالیٰ نے جو پہلے وعدہ کیا تھا ، کہ اگر یہ لوگ اپنی شرارتوں سے بازنہ آئیں گئے ، توعذابِ الٰہی سے ہلاک کئے جائیں گئے وہ پُوراہوا۔ خود قرآن شریف میں ان لڑائیوں کی یہ وجہ صاف لکھی گئی
اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللہ عَلیٰ نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرُ۔ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْامِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِحَقِِّ (الحج۴۰،۴۱)
یعنی ان لوگوں کو مقابلہ کی اجازت دی گئی ۔ جن کے قتل کے لیے مخالفوں نے چڑھائی کی (اس لیے اجازت دی گئی ) کے اُن پر ظُلم ہوا ہے ۔ اور خداتعالیٰ مظلوم کی حمایت کرنے پرقادر ہے ۔ یہ وُہ مظلُوم ہیںجو ناحق اپنے وطنوں سے نکالے گئے ۔ ان کا گناہ بجزاس کے اور کوئی نہ تھا کہ اُنھوں نے کہا کہ ہماراربّ اللہ ہے یہ وہ آیت ہے جس سے اسلامی جنگوں کاسلسلہ شروع ہوتاہے پھر جس قدر رعائتیں اسلامی جنگوں میں دیکھوگے ۔ ممکن نہیںکہ مُوسوی لڑائیوں میں لاکھوں بیگناہ بچو ّں کا ماراجانابوڑھوں اور عورتوںکا قتل ، باغات اور درختوںکاجلاکر خاک سیاہ کردینا ، تورات سے ثابت ہے۔ مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باوصفیکہ ان شریروںسے