۱۴؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز چہار شنبہ
فجر کے وقت فرمایا کہ
میں کتاب تو ختم کر چکا ہوں۔رات آدھی رات تک بیٹھا رہا۔نیت تو ساری رات کی تھی مگر کام جلدی ہی ہو گیا۔اس لئے سو رہا۔اس کا نام مواہب الرحمٰن رکھا ہے۔
ایک سَقہ کی وفات اور اس پر الہام کا انطباق
ایک سقہ جو کہ حضرت اقدس کے ہاں پانی بھراکرتا تھا وہ ایک ناگہانی موت س یمر گیا۔اور اسی دن اس کی شادی تھی۔اس کی موت پر آپ نے فرمایا کہ مجھے خیال آیا کہ
قتل خیبۃ وزید ھیبۃ
جو وحی ہوئی تھی وہ اسی کی طرف اشارہ ہے۔؎ٰ
۱۵؍جنوری ۱۹۰۳ء
خدا کے کام کیلئے جاگنا جہاد ہے
فٔر کے وقت فرمایا کہ
رات تین بجے تک جاگتا رہا تو کاپیاں اور پروف صحیح ہوئے۔مولوی عبدالکریم صاحب کی طبیعت علیل تھی وہ بیھ جاگتے رہے۔وہ اس وقت تشریف نہیں لا سکیں گے۔یہ بیھ ایک جہاد ہی تھا۔رات کو انسان کو جاگنے کا اتفاق تو ہاو کرتا ہے مگر کیا خوش وہ وقت ہے جو خد اکے کام میں گزارے۔ایک صحابی کا ذکر ہے کہ وہ جب مرنے لگے تو روتے تھے ۔ان سے پوچھا گیا کہ کیا موت کے خوف سے روتے ہو تو کہا موت کا کوئی خوف نہین مگر یہ افسوس ہے کہ یہ وقت جہاد کا نہیں ہے۔جب جہاد کیا کرتا تھا۔اگر اس وقت یہ موقعہ ہوت ا۔تو کیا خوب تھا۔
فرمایا کہ
میرع اعضاء توبے شک تھک جاتے ہیں مگر دل نہیں تھکتا۔وہ چاہتا ہے کہ کام کئے جائو۔