نہیں اور یہی میں تمہیں کہتا ہوں اور سکھاتا ہوں خدا تعالیٰ اس سے کہ کسی کو حقیقی طور پر ایذا پہنچائی جاوے اور ناحق بخل کی راہ سے دشمنی کی جاوے ایسا ہی بیزار ہے جیسے وہ نہیں چاہتا یعنی بنی نوع کا باہمی فصل اور اپنا کسی غیر کے ساتھ وصل یہ وہی راہ ہے کہ منکروں کے واسطے بھی دعا کی جاوے اس سے سینہ صاف اور اور انشراح پیدا ہوتا ہے اور ہمت بلند ہوتی ہے اسلئے جب تک ہماری جماعت یہ رنگ اختیارنہیں کرتی اس میں اور اس کے غیر میں پھر کوئی امتیاز نہیں ہے میرے نزدیک یہ ضروری امر ہے کہ جو شخص ایک کے ساتھ دین کی راہ سے دوستی کرتا ہے اور اسکے عزیزوں سے کوئی ادنی درجہ کاہے تو اس کے ساتھ نہایت رفق اور ملائمت سے پیش آنا چاہئیے اور ان سے محبت کرنی چاہئیے کیونکہ یہ خدا کی شان ہے۔ بداں را نیکاں بہ بخشد کریم پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تمہیں چاہئیے کہ تم ایسی قوم بنو جس کی نسبت آیا ہے فأنھم قوم لا تشقی جلیسہم یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ ان کے ہم جلیس بدبخت نہیں ہوتا۔ یہ خلاصہ ہے ایسی تعلیم کا جو تخلقو باخلاق اللہ میں پیش کی گئی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک عیسائی حق جو کی گفتگو منشی عبدالحق صاحب قصوری طالب علم بی۔اے کلاس جو عرصہ تین سال سے عیسائی تھے الحکم اور حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا تھا کہ وہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کو عملی رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں اس پرحضرت خلیفۃ اللہ نے ان کو لکھ بھیجا تھا کہ وہ کم از کم دو مہینہ تک یہاں قادیان میں آ کر رہیں چنانچہ انہوں نے دارالامان کا قصد کیا ۲۲؍دسمبر ۱۹۰۱ء؁ کو بعد دوپہر یہاں آ پہنچے پس اس عنوان کے نیچے ہم جو لکھیں گے سردست یہ انہی کے متعلق ہو گا ۔ پہلی ملاقات حضرت جر ی اللہ فی حلل الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعداء کی طبیعت بوجہ کثرت کار