خدا تعا لیٰ کی محبت کی بابت تو خدا ہی بہتر جانتا ہے لیکن بعض اشیاء بعض سے پہچانی جاتی ہیں مثلاایک درخت کے نیچے پھل ہوں تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کے اوپر بھی ہوں گے لیکن اگر نیچے کچھ بھی نہیں تو اوپر کی بابت کب یقین ہوسکتاہے اسی طرح پر بنی نو ع انسان اور اپنے اخوا ن کے ساتھ جو یگانگت اور محبت کا رنگ ہو اور وہ اس اعتدال پر ہو جو خدا تعا لیٰ کی محبت کا رنگ بھی ضرور ہے
دیکھو دنیا چند روزہ ہے اور آگے پیچھے سب مر نے والے ہیں ۔قبر یں منہ کھولے ہو ئے آوازیں مار رہی ہیںاور ہر شخص اپنی اپنی نو بت پر جا داخل ہو تا ہے۔ عمر بے اعتبا ر او رز ندگی ایسی ناپائدار ہے کہ چھ ماہ اور تین ماہ تک زندہ رہنے کی امید کیسی ۔اتنی بھی امید اور یقین نہیں کہ ایک قدم کے بعد دوسرے قدم اٹھانے تک زندہ رہیںگے یا نہیں ۔پھر جب یہ حال یہ ہے کہ مو ت کی گھڑی کا علم نہیں اور یہ پکی با ت ہے کہ وہ یقینی ہے ٹلنے والی نہیں تو دانش مند انسان کا فرض ہے کہ ہر وقت اسکے لیے تیار رہے ۔اسی لیے قرآن شر یف میں فر مایاگیا ہے فلا تموتن الا و انتم مسلمون( البقرۃ:۱۳۳)
ہر وقت جب تک انسان خدا تعالی سے اپنا معاملہ صاف نہ رکھے اور ان پر دو حقوق کی پوری تکمیل نہ کرے بات نہیں بنتی جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ حقوق بھی دو قسم کے ہیں ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد۔
اور حقوق عباد بھی دو قسم کے ہیں ایک وہ جو دینی بھائی ہو گئے ہیں خواہ وہ بھائی ہے یا باپ یا بیٹامگر ان سب میں ایک دینی اخوت ہے اور ایک عام بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی۔
اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سب سے بڑا حق یہی ہے کہ اس کی عبادت کی جاوے اور یہ عبادت کسی غرض ذاتی پر مبنی نہ ہو بلکہ اگر دوزخ اور بہشت نہ بھی ہوں تب بھی اس کی عبادت کی جاوے اور اس ذاتی محبت میں جو جو مخلوق کو اپنے خالق سے ہونی چاہئے کوئی فرق نہ آوے۔اس لئے ان حقوق میں دوزخ بہشت کا سوال نہیں ہونا چاہئے بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دعا نہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتاہے۔ادعونی استجب لکم( المومن:۶۱) میںاللہ تعالی نے کوئی قیدنہیں لگائی کہ دشمن کے حق میں دعا کرو تو قبول نہیں کروں گا بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دعا کرنا یہ بھی سنت نبوی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی سے مسلمان ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے اس لئے بخل کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں کرنی چاہئے اور حقیقۃً موذی نہیں ہونا چاہئے شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے دو تین مرتبہ دعا نہ کی ہو ایک بھی ایسا