مگر ایک عرصہ سے اس کی آبادی کی کوشش کرتا ہوں۔لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوتی۔اس لئے اب ارادہ ہے کہ اسے خدا کے نام پر احمدیہ مشن کی خدمت میں وقف کردوں۔شاید اﷲ تعالیٰ اس میں آبادی کردے اور وہ دین کی راہ میں کام آوے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ
آپ کی نیت کا ثواب تو خدا تعالیٰ آپ کو دے گا لیکن آپ خود وہاں جا کر آبادی کریں اور اخراجات کاظت وغریہ نکال کر پھر جو کچھ اس میںسے بچا کرے وہ اﷲ کے نام پر اس سلسلہ میں دے دیا کریں۔ ۲؎
۱۳؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز سہ شنبہ
نمازِ فجر کے وقت
ابو سعید عرب صاحب نے عرض کی کہ چونکہ جناب نے جمعرات کو روانہ ہونا ہے۔اور آدمی زیادہ ہوں گے اس لئے ریلوے کمروں کو ریزرو کرو ا لینے سے آرام ہوگا۔
حضرت صاحب نے فرمایا کہ
ہاں۔یہ امر مناسب ہے کہ تکلیف نہ ہو۔
الٰہی جماعتوں میں ارتداد
خاکسار ایقیٹر نے مولوی جمال دین صاحب سید والہ کی طرف سے عرض کی کہ ایک حافظ نے ان کو بلا کر بہت ناجائز دھمکیاں دی ہیں۔اور کچھ آدمی جو بیعت میں داخل تھے ان کو بہکا کر بیعت سے توبہ کروائی ہے۔مولوی صاحب نے درخواست کی ہے کہ دعا کی جائے کہ خد اان کو نیچا دکھاوے۔
فرمایا :- مرتد ہونا یہ بھی ایک سنت اﷲ ہے۔موسیٰ علیہ السلام کے وقت مین بھی مرتد ہوئے۔ آنحضرت ﷺ کے وقت بھی مرتد ہویء اور عیسیٰ ؑکے وقت کا تو ارتداد ہی عجیب ہے۔
خدا کا وعدہ ہے کہ اگر ایک جائے گا تو وہ اس کے بدلے میں ایک جماعت دے دیگا۔